قومی

Supreme Court overturns Guwahati High Court Verdict: سپریم کورٹ نے پلٹا گوہاٹی ہائی کورٹ کا فیصلہ، 27 لوگوں کو غیرملکی قرار دیئے جانے پر لگائی روک

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے گوہاٹی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کوکالعدم قراردے دیا ہے، جس میں 27 افراد کوغیرملکی قراردینے سے متعلق فارنرزٹریبیونل کے حکم کوبرقراررکھا گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے ان تمام مقدمات کونئے سرے سے سماعت کے لئے متعلقہ فارنرزٹریبیونل کوواپس بھیج دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے 27 اپیل کنندگان کی اپیل کو منظورکرتے ہوئے واضح کیا کہ اس نے ان کے بھارتی شہریت کے دعووں کے میرٹ یا حقیقت کا جائزہ نہیں لیا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پرصرف قانونی عمل اورسماعت کے طریقۂ کارکا جائزہ لیا گیا ہے۔

شہریت اورغیر ملکی قراردینے کا معاملہ نہایت اہم: سپریم کورٹ

‘لائیولا’ کی رپورٹ کے مطابق، معاملے کی سماعت کرتے ہوئے بینچ نے کہا کہ کسی شخص کی شہریت یا اسے غیرملکی قراردینے کا معاملہ آئینی اورقانونی اعتبارسے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ریاست کا یہ جائزاورقانونی مفاد ہے کہ جوافراد بھارتی شہریت کے قانونی طورپرحقدارنہیں ہیں، وہ جھوٹے دعووں، قانونی عمل کے غلط استعمال یا تاخیرکا فائدہ اٹھا کرشہریت حاصل نہ کرسکیں۔

تاہم سپریم کورٹ نے اس بات پرزوردیا کہ اس مقصد کے حصول کے لئے انصاف اورمنصفانہ کارروائی کے اصولوں کوقربان نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ کسی شخص کی شہریت یا غیر ملکی حیثیت کا تعین ایسے قانونی عمل کے ذریعہ ہونا چاہئے، جوشفاف، منصفانہ اورقانون کے مطابق ہو۔ عدالت نے مزید کہا کہ فارنرزایکٹ، 1946 کی دفعہ 9 کے تحت عائد قانونی ذمہ داریاں اپنی پوری قوت کے ساتھ نافذ رہیں گی۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں ایک بارپھرواضح کیا کہ اس نے اپیل کنندگان کے بھارتی شہریت کے دعووں کی قانونی حیثیت یا ان کے میرٹ پر کوئی فیصلہ نہیں دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: Ban on Cow Slaughter: تمل ناڈو میں گائے کے ذبیحہ پر مکمل پابندی نہیں! سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلہ پر لگائی روک، حکومت کو جاری کیا نوٹس

گوہاٹی ہائی کورٹ نے کیوں مسترد کی تھی درخواست؟

اس سے قبل گوہاٹی ہائی کورٹ نے ان درخواستوں کومسترد کردیا تھا، جن میں فارنرزٹریبیونل کے یک طرفہ فیصلے کوچیلنج کیا گیا تھا۔ ٹریبونل نے ان 27 افراد کوغیرملکی قراردیا تھا۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ قانونی نوٹس کی تعمیل کے باوجود کوئی بھی فریق فارنرزٹریبونل کے سامنے پیش نہیں ہوا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا تھا کہ ٹریبونل کے فیصلے کو تقریباً 23 سال بعد چیلنج کیا گیا، اس لیے درخواستیں قابل قبول نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد اب یہ تمام مقدمات دوبارہ متعلقہ فارنرزٹریبیونل میں سنے جائیں گے، جہاں قانون کے مطابق نئے سرے سے سماعت کی جائے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts