قومی

Supreme Court on Allahabad High Court: الہ آباد ہائی کورٹ کی حالت تشویشناک،عباس انصاری کیس میں سپریم کورٹ کا سخت تبصرہ

سپریم کورٹ نے جمعرات کو ملک میں ہائی کورٹس کے کام کاج پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جس میں خاص طور پر الہ آباد ہائی کورٹ میں مقدمات کی فہرست کے حوالے سے پیش رفت پر بھی ناراضگی ظاہر کی گئی ہے۔ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی ڈویژن بنچ نے اتر پردیش کے ایم ایل اے عباس انصاری کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا ہے۔ انصاری نے کہا تھا کہ الہ آباد ہائی کورٹ جائیداد تنازعہ سے متعلق ان کے کیس کی سماعت نہیں کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ ہم کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ کچھ ہائی کورٹس ہیں جہاں ہم نہیں جانتے کہ کیا ہوگا اور یہ ایک ہائی کورٹ ہے جس کے بارے میں ہمیں فکر مند ہونا چاہیے۔ اس پر سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے کہا کہ میں بھی کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ یہ بہت تشویشناک ہے۔

جسٹس کانت نے اس کے بعد ہائی کورٹ میں مقدمات کی فہرست سے متعلق مسائل کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے فائلنگ ناکام ہو گئی ہے، لسٹنگ ناکام ہو گئی ہے، کوئی نہیں جانتا کہ کون سا کیس درج کیا جائے گا اور میں گزشتہ ہفتے کے روز وہاں موجود تھا اور کچھ متعلقہ ججوں اور رجسٹرار سے طویل بات چیت کی۔آپ کو بتا دیں عباس انصاری نے گزشتہ سال اپنی خاندانی جائیداد کو لے کر سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا، جسے سرکاری جائیدادقرار دیا گیا تھا۔

ان کی شکایت یہ تھی کہ چونکہ ہائی کورٹ نے انہیں دلی باغ سب ڈویژنل مجسٹریٹ کے حکم کے خلاف تحفظ فراہم نہیں کیا تھا، اس لیے ریاست نے اس پلاٹ پر قبضہ کر لیا تھا اور پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت اس جگہ پر کچھ رہائشی یونٹ تعمیر کرنا شروع کر دیے تھے۔اس کے بعد سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کو ہدایت کی تھی کہ وہ درخواست گزار کی طرف سے دائر عبوری روک لگانے کی درخواست کی جلد سے جلد اور کسی بھی صورت میں 04.11.2024 تک سماعت کرے۔ عدالت عظمیٰ نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو درخواست کی سماعت بغیر کسی لسٹ کے کی جا سکتی ہے تاکہ درخواست گزار کی درخواست پر عبوری تحفظ کے لیے مناسب فیصلہ لیا جا سکے۔

آج کپل سبل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود کیس کی سماعت نہیں ہو رہی ہے۔ سبل نے کہا کہ ان معاملات میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ دیکھیں اس عدالت میں حکم کے باوجود کیا ہو رہا ہے، اگر ہائی کورٹ ایسا کرے تو شہری کہاں جائیں گے؟ جس کے بعد سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ میں پیش رفت پر تشویش کا اظہار کیا۔ عدالت نے کیس کی سماعت کرنے والی ہائی کورٹ بنچ کے بارے میں بھی پوچھا۔ جب یہ معلومات دی گئی تو عدالت نے پایا کہ ہائی کورٹ کے جس جج کے سامنے یہ مقدمہ درج تھا وہ ملک کے بہترین ججوں میں سے ایک تھے۔ جسٹس کانت نے کہا کہ وہ واقعی بہترین ججوں میں سے ایک ہیں، وہ اچھا لکھتے ہیں اور ان کے الفاظ میں وضاحت ہے۔اس کے بعد سپریم کورٹ نے اپنے بعد کے حکم میں انصاری کی عرضی پر ہائی کورٹ کی سماعت تک متعلقہ جگہ پر موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا کہ معاملہ جلد از جلد ہائی کورٹ کے سامنے پیش کیا جائے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ اس کا حکم ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ کے نوٹس میں لایا جائے۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

LPU Student Protest: ایل پی یو میں طلبہ کا احتجاج بے قابو، پولیس کے ساتھ جھڑپ، فگواڑا-جالندھر ہائی وے جام، کئی گاڑیاں میں لگائی آگ

لولی پروفیشنل یونیورسٹی کے باہر احتجاج نے اختیار کی پُرتشدد شکل، طلبہ نے نعرے بازی…

7 hours ago

Ashok Singhal Birth Centenary: اشوک سنگھل کی جنم صدی پر گونجا ’رام نام‘، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نوجوانوں سے کیا اپیل

بھارت منڈپم میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اشوک سنگھل…

8 hours ago

Virat Kohli Century: ترواننت پورم میں ’کنگ کوہلی‘ کا طوفان! سنچری جڑ کر ویسٹ انڈیز کو کیا بے حال، ہندوستان نے 8 وکٹ سے ہرایا

 ہندوستان نے وراٹ کوہلی اور کپتان شبھمن گل کی شاندار سنچریوں کی بدولت اتوار کو…

8 hours ago

Amit Shah Congress Challenge: امت شاہ کی کانگریس کو دوٹوک للکار، کہا- بے بنیاد دعوؤں کے بجائے اعداد و شمار کے ساتھ کریں بات

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو کانگریس پر حملہ تیز کرتے ہوئے سابق…

8 hours ago