قومی

SC issues new guidelines on tiger conservation: ٹائیگروں کے تحفظ پر سپریم کورٹ کی نئی ہدایات، کور ٹائیگر علاقوں میں سفاری پر مکمل پابندی، بفر زون میں ریسکیو سینٹر لازمی

سپریم کورٹ نے ملک کے ٹائیگر ریزرو کے تحفظ اور انتظام سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے ٹائیگر سفاری کی تنصیب اور کاربٹ ٹائیگر ریزرو (CTR) میں ہوئی غیرقانونی تعمیرات و درختوں کی کٹائی کے معاملات پر تفصیلی ہدایات جاری کی ہیں۔ یہ فیصلہ  T.N. Godavarman Thirumulpad vs Union of India کیس کی کارروائی کا حصہ ہے۔ عدالت نے نہ صرف کور/کرٹیکل ٹائیگر ہیبی ٹیٹ میں ٹائیگر سفاری پر مکمل پابندی عائد کی ہے بلکہ کاربٹ میں غیرقانونی سرگرمیوں کے ذمہ دار آٹھ سرکاری اہلکاروں کے خلاف CBI کی جانب سے چارج شیٹ دائر کیے جانے کے بعد معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا ہے۔ عدالت نے جنگلی حیات (تحفظ) ایکٹ 1972 کے مختلف دفعات کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ ٹائیگر ریزرو کی حیثیت نیشنل پارک اور وائلڈلائف سینچری سے بھی زیادہ اہم ہے۔ تحفظ کے اسی بنیادی مقصد کو یقینی بنانے کے لیے عدالت نے ماہرین کی کمیٹی کی سفارشات کو قبول کرتے ہوئے ٹائیگر سفاری کے لیے سخت ضابطہ قائم کیا ہے۔

کور علاقوں میں ٹائیگر سفاری بالکل ممنوع

عدالت نے صاف ہدایت دی ہے کہ ٹائیگر سفاری کو کور یا کرٹیکل ٹائیگر ہیبی ٹیٹ میں ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی۔ یہ فیصلہ WLP ایکٹ کی دفعہ 33(A) اور 38-V کی تشریح کے تحت کیا گیا ہے۔ اس پابندی کا مقصد باغھوں اور دیگر جنگلی حیات کے لیے غیر مداخلتی (inviolate) علاقے برقرار رکھنا ہے۔

بفر زون میں ٹائیگر سفاری کے لیے سخت شرائط

عدالت نے واضح کیا کہ بفر(Buffer) اور فرنج (Fringe) علاقوں میں ٹائیگر سفاری صرف غیر جنگلی زمین (Non-forest land) یا تباہ شدہ جنگلی زمین (Degraded forest land) پر ہی قائم کی جاسکتی ہے۔ سب سے اہم شرط یہ ہے کہ سفاری کی جگہ ٹائیگر کوریڈور کا حصہ ہرگز نہ ہو۔

ٹائیگر کے تحفظ کے لیے اہم ہدایات

ہر ٹائیگر سفاری کے ساتھ ایک مکمل ریسکیو اور ری ہیبیلیٹیشن سینٹر قائم کرنا لازمی ہوگا، جہاں زخمی، آوارہ یا چھوڑے گئے ٹائیگر کی دیکھ بھال کی جائے گی۔ عدالت نے 2019 کے ان رہنما اصولوں کو منسوخ کر دیا ہے جن کے تحت چڑیا گھروں سے جانوروں کو سفاری میں لانے کی اجازت تھی۔ اب سفاری میں صرف وہ جانور رکھے جائیں گے جو اسی ریزرو یا متعلقہ لینڈ اسکیپ سے بچائے گئے ہوں۔ سفاری کا انتظام متعلقہ ریزرو کے فیلڈ ڈائریکٹر کی نگرانی میں ہوگا۔

کاربٹ میں غیرقانونی تعمیرات: CBI کی کارروائی

یہ فیصلہ کاربٹ ریزرو میں غیرقانونی تعمیرات، درختوں کی کٹائی اور بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کے تسلسل میں سامنے آیا ہے، جسے CBI کے سپرد کیا گیا تھا۔ 29 مئی 2025 کو CBI نے اپنی رپورٹ داخل کر دی اور عدالت نے آٹھ ملزمین کے خلاف درج چارج شیٹ کا نوٹس لیتے ہوئے کارروائی مکمل کی۔ ملزمان میں کشن چند (اس وقت کے ڈپٹی کنزرویٹر آف فاریسٹ / DFO، کالاگرھ ڈویژن)، برج بہاری شرما (اس وقت کے فاریسٹ رینج آفیسر، سونانڈی و پکھرو) اور راہل (اس وقت کے ڈائریکٹر، کاربٹ ٹائیگر ریزرو) شامل ہیں۔ ان پر IPC، کرپشن ایکٹ، انڈین فاریسٹ ایکٹ اور وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

IFS افسران کے خلاف سست کارروائی پر ناراضگی

عدالت نے IFS افسران کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی میں تاخیر پر ناراضگی ظاہر کی اور 19 مارچ 2025 کو ریاست اتراکھنڈ کو تین ماہ میں کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی، جو اب تک پوری نہیں ہوئی۔

آل انڈیا سطح پر بڑے فیصلے

ماہرین کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے کئی اہم قومی ہدایات جاری کی ہیں، جن میں ٹائیگر کنزرویشن پلان (TCP) کی تیاری کا حکم شامل ہے۔ تمام ریاستوں کو چھ ماہ کے اندر اندر لازمی طور پر ٹائیگر کنزرویشن پلان (TCP) تیار کرنا ہوگا۔ مرکزی فنڈنگ (CSS-IDWH) کو منظور شدہ TCP سے جوڑ دیا جائے گا۔ TCP میں ٹائیگروں کی کیریئنگ کیپیسٹی کا حساب شامل ہوگا۔ بفر اور کورڈور علاقوں میں جنگلاتی کارروائیاں جنگلی حیات کے تحفظ سے ہم آہنگ ہونی چاہئیں۔

انسانی وسائل اور فنڈنگ میں بہتری

عدالت نے زور دیا کہ ٹائیگر ریزرو میں تمام خالی آسامیوں کو فوری طور پر بھرا جائے۔ ویٹرنری ڈاکٹرز اور وائلڈ لائف بائیولوجسٹس کے لیے الگ کیڈر بنانے کی تجویز ہے۔ MoEF&CC، NTCA اور CEC کو فنڈنگ کے لیے نیا پالیسی فریم ورک تیار کرنا ہوگا۔ ریونیو کو ٹائیگر کنزرویشن فاؤنڈیشن میں دوبارہ سرمایہ کاری کیا جائے گا۔

جنگل عملے کے لیے اسلحہ اور تحفظ

عدالت نے سفارش کی ہے کہ بیٹ گارڈ سے فورسٹر تک تمام اہلکاروں کو مرحلہ وار اسلحہ فراہم کیا جائے۔ قومی سلامتی قوانین کے تحت انہیں قانونی تحفظ (Legal Immunity) ملے۔ ڈیوٹی کے دوران شہید ہونے پر انہیں وہی مراعات دی جائیں جو نیم فوجی دستوں کو ملتی ہیں۔

ماحولیاتی بحالی پر زور

عدالت نے Compensatory Afforestation کی جگہ Active Restoration کو ترجیح دینے پر زور دیا، تاکہ تباہ شدہ ایکو سسٹم کو اس کی اصل حالت کے قریب لایا جاسکے۔ عدالت نے واضح طور پر کہا ہے کہ نقطۂ نظر Eco-centric ہونا چاہئے نہ کہ Anthropocentric (یعنی انسان مرکز)۔

تمام ریاستوں کو 6 ماہ کے اندر قواعد جاری کرنے کا حکم

عدالت نے تمام ریاستوں اور MoEF&CC کو ہدایت دی ہے کہ اس فیصلے میں دی گئی سفارشات اور ہدایات پر عمل درآمد کے لیے چھ ماہ میں قواعد اور سرکلر جاری کریں۔ یہ فیصلہ بھارت میں ٹائیگرس کے تحفظ اور ماحولیاتی حکمرانی کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Jammu Kashmir Budgam Encounter: کشمیر میں لشکر کا اعلیٰ کمانڈر موسیٰ ہلاک، فوج نے بڈگام کے جنگلات میں دہشت گرد کو کیا ہلاک

سکیورٹی ایجنسیوں کو بڈگام کے یوسمرگ علاقے کے گھنے جنگلات میں پاکستانی دہشت گردوں کی…

15 minutes ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026، بھارتی خواتین کی ٹریپ ٹیم نے جیتا سلور، پی ایم مودی اور امت شاہ نے دی مبارکباد

منیشا کیر، نیرو اور آشِما اہلاوت کی تین رکنی ٹیم نے خواتین کے ٹریپ ٹیم…

9 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز، خواتین کی 4×400 میٹر ریلے ٹیم نے جیتا تاریخی گولڈ میڈل، وزیر اعظم نریندر مودی نے دی مبارکباد

وزیر اعظم کے دفتر (PMO) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر مبارکباد دیتے ہوئے…

10 hours ago