سپریم کورٹ نے دہلی-این سی آر میں گرین پٹاخوں کی فروخت پر اپنا حکم محفوظ کر لیا ہے۔ عدالت نے اشارہ دیا ہے کہ دیوالی کے دوران کچھ شرائط کے ساتھ گرین پٹاخوں کے استعمال کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ سماعت کے دوران دہلی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نےگرین پٹاخوں کی اجازت کی گزارش کی، انہوں نے تجویز پیش کی کہ نیشنل انوائرمنٹل انجینئرنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور پٹرولیم اینڈ ایکسپلوسیوز سیفٹی آرگنائزیشن سے تصدیق شدہ گرین کریکرز کی فروخت کی اجازت دی جائے۔
دہلی حکومت نے پٹاخوں پر پابندی جاری رکھنے پر دیا زور
انہوں نے یہ بھی کہا کہ لڑی والے پٹاخوں کی تیاری، فروخت اور استعمال پر پابندی جاری رہنی چاہیے اور PESO اور NEERI کو پٹاخوں کی تیاری کی سہولیات کا باقاعدہ معائنہ کرنا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ صرف صحیح فارمولے کا استعمال کرتے ہوئےگرین پٹاخے تیار کیے جائیں۔ دہلی حکومت نے پٹاخوں کے بارے میں متوازن انداز اپنانے کا مشورہ بھی دیا۔ دیوالی، گرو پورنیما اور کرسمس پر گرین پٹاخوں کی اجازت ہونی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی تجویزدی ہے کہ عدالت چاہئے تو دیوالی کی رات 8 سے 10 بجے کے درمیان گرین پٹاخے جلانے کا حکم دے سکتی ہے۔
CJI گوئی نے پوچھا: کیا پٹاخوں پر پابندی کی وجہ سے AQI میں بہتری آئی ہے؟
جسٹس بھوشن رام کرشنا گوئی اور جسٹس کے ونود چندرن کی بنچ نے پوچھا کہ کیا 2018 میں پٹاخوں پر پابندی کے بعد سے AQI میں کمی آئی ہے۔ تشار مہتا نے وضاحت کی کہ AQI تقریباً وہی رہتی ہے، صرف کووڈ کے دوران ہوا کا معیار بہتر ہوتا ہے، لیکن دیگر وجوہات کی بناء پر۔ دیگر وکلاء نے دلیل دی کہ پرالی جلانے اور گاڑیوں کی آلودگی جیسے مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف پٹاخوں کو نشانہ بنانا غلط ہے۔ سماعت کے دوران تشار مہتا نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ بچوں کو ایک گھنٹہ تو والدین کو منانے میں لگ جاتا ہے کہ وہ پٹاخے پھوڑنے کے لیے ان کے ساتھ چلیں، اس لئے تہواروں پر کوئی وقت کی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔
پٹاخے بیچنے کی اجازت کس کو ملنی چاہیے؟
پٹاخے بنانے والوں کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے کہا کہ 2017 میں سپریم کورٹ نے صرف گرین کریکرز کی اجازت دی تھی، لیکن بعد میں اس پرمکمل پابندی عائد کردی تھی۔ گرین کریکرعدالتی احکامات پرتیار کیے گئے اوراس کی منظوری ہونی چاہیے۔ جسٹس کے ونود چندرن
نے نشاندہی کی کہ NEERI اور PESO نے صرف 49 مینوفیکچررز کو سرٹیفیکیشن دیا ہے۔ ایس جی مہتا نے جواب دیا، “ہم تجویز کر رہے ہیں کہ ہماری تجویز میں صرف ان 49 مینوفیکچررز کو ہی اجازت دی جائے، لیکن بچوں کو تہوار منانے کا موقع دیا جانا چاہیے۔”
صرف ایک شہر کی وجہ سے دوسری ریاستوں پر پابندی کیوں؟
پٹاخے بنانے والوں کے وکیل نے کہا کہ ہم صرف 25-30 تھوک کاروباریوں کو ہی پٹاخے فراہم کریں گے۔ اس سے کنٹرول بھی برقرار رہے گا۔” ایک وکیل نے کہا کہ صرف ایک شہر (دہلی) میں ایک مسئلہ کی وجہ سے ہریانہ کے 14 شہروں، اتر پردیش کے آٹھ اور راجستھان کے دو
شہروں میں پٹاخوں پر پابندی لگا دی گئی، ان ریاستوں کو سنا بھی نہیں گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…