نئی دہلی، 27 مئی: ایک اہم عبوری حکم کے ذریعہ سپریم کورٹ نے ہمدرد انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اینڈ ریسرچ (HIMSR) میں تعلیمی سیشن 2026-27 کے لیے 199 میڈیکل طلبہ کے داخلے کا راستہ صاف کر دیا ہے۔ اس حکم نے جامعہ ہمدرد اور ہمدرد انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اینڈ ریسرچ کے مالیاتی انتظامات موثر طور پر ایک فوجی افسر کی نگرانی میں رکھ دیا ہے۔ جسٹس بی۔ وی۔ ناگرتھنا اورجسٹس اُجّل بھویان کی بنچ نے اس معاملے سے متعلق متعدد ہدایات جاری کیں۔
سپریم کورٹ کا پیغام: ایک فوجی افسر کی غیر جانبدارانہ نگرانی میں ہی ممکن ہے شفاف انرظامیہ
یہسپریم کورٹ کے حکم نے ٹرسٹیوں، انتظامیہ، طلبہ اور پورے اکیڈمک حلقے کو ایک بڑا قانونی پیغام دیا ہے۔ عدالت نے سبھی موجودہ مالیاتی معاملات کا اختیار فوجی افسر کرنل طاہرمصطفیٰ کو سونپ دیا ہے۔ انہیں جولائی 2025 میں ہمدرد خاندان کے اندر جاری تلخ جانشینی کے تنازع کے درمیان جامعہ ہمدرد کا رجسٹرارمقررکیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق، کرنل طاہراس سے پہلے سینٹر فارآٹومیٹڈ ملٹری سروے (CAMS) اور وزارت خارجہ میں سرحدی سیل کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ انہوں نے عدالت سے ایک غیرجانبدارنگرانی کا نظام قائم کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔
مختلف قانونی ذرائع سے ہونے والی گفتگو سے یہ واضح ہوا کہ دو ٹرسٹی گروپوں کے درمیان “طویل عرصے سے جاری رسہ کشی” کی وجہ سے یہ ادارہ مالی بےضانطگی کا میدان بن چکا تھا۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ “نجی لوگ اکاؤنٹس پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے” اور یونیورسٹی کا “کردار اور طریقہ کار تعلیمی معیارات کو تباہ کرنے والا” ہو چکا تھا۔
چدمبرم نے سی اے جی رپورٹ کا معاملہ اٹھایا، سپریم کورٹ نےاز خود نوٹس لیا
سماعت کے دوران سینئر ایڈووکیٹ اور سابق مرکزی وزیر پی. چدمبرم نے، جو جواب دہندگان کی طرف سے پیش ہوئے تھے، نے تعمیل پر سنگین سوالات اٹھائے۔ انہوں نے بتایا کہ ادارہ بغیر کسی کام یاب مالیاتی کمیٹی یا ایگزیکٹو کمیٹی کے، مکمل طور پر عارضی طریقے سے چل رہا تھا۔ معاملے سے جڑے چند ذرایع نے بھارت ایکسپریس کو بتایا، “مسٹر چدمبرم نے کہا کہ اگر کل ای ڈی یا سی بی آئی کی چھاپہ ماری ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری رجسٹرارپرآئے گی۔”
انہوں نے قانونی اداروں کی عدم موجودگی کی طرف توجہ دلائی اور ایک سی اے جی آڈٹ رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں 2011 سے 2023 کے درمیان 813 کروڑ روپیے کی چونکا دینے والی رقم کے غبن کا الزام لگایا گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے ان دلائل کا نوٹس لیا۔ بنچ نے کہا کہ اس معاملے کے “انوکھے حقائق” – خاص طور پر خاندان کی دو شاخوں کے درمیان ثالثی (اربٹریشن) کا تنازع – کو دیکھتے ہوئے ایک غیر جانبدار، اعلیٰ سطحی سرکاری افسر کی موجودگی ضروری تھی۔
‘موافقت کی رضامندی’ اور رجسٹرار کو کورٹ سے ملے اختیارات
اگرچہ درخواست گزاروں (اسد معید و دیگر) نے یونیورسٹی کو باضابطہ ‘رضامندی نامہ’ جاری کرنے کے احکامات دینے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن عدالت نے ان التماسوں سے آگے بڑھتے ہوئے کرنل طاہر مصطفیٰ کو حقیقی مالیاتی کنٹرولر (ڈی فیکٹو فنانشل کنٹرولر) مقرر کر دیا۔
عدالت نے حکم میں کہا، “اپنے گذشتہ تاریخ 11.02.2026 کے حکم کی تعمیل میں ہم یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ اس خصوصی اجازت درخواست (ایس ایل پی) کے نتائج کے ماتحت رہتے ہوئے، تعلیمی سیشن 2026-27 کے لیے موافقت کی رضامندی (کنسنٹ آف افیلی ایشن) پہلے جواب دہندہ یونیورسٹی کی طرف سے تیسرے درخواست گزار ادارے کے حق میں فراہم کردہ تصور کی جائے گی۔”
مالی بحران اور شفافیت کا راستہ
سب سے اہم بات یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ نے ہدایت دی کہ 150 ایم بی بی ایس اور 49 پوسٹ گریجویٹ نشستوں کے لیے تمام فیس کی ادائیگی رجسٹرار کو جمع کرائی جائے۔ درخواست گزار کالج کو علیحدہ حساب کتاب رکھنے اور فیس اور ادائیگیوں کی تفصیل کرنل مصطفیٰ کے دفترمیں جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس معاملے سے جڑے ایک قانونی ماہر نے تصدیق کرتے ہوئے کہا، “اب سپریم کورٹ نے رجسٹرار کو براہِ راست نگرانی میں رکھا ہے۔ نہ تو HIMSR انتظامیہ اور نہ ہی یونیورسٹی ان پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔ سارے اکاؤنٹس ایک غیرجانبدار فوجی افسرکے پاس جائیں گے۔”
نیٹ پر مبنی داخلہ عمل بحال
سپریم کورٹ کے اس عبوری حکم کے ساتھ قومی طبی کمیشن (NMC) کو HIMSR کے لیے یو جی پورٹل تک رسائی بحال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ حکم یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے لگائی گئی من مانی پابندیوں کو ختم کرتے ہوئے، نیٹ رینکنگ کی بنیاد پر ہی داخلہ عمل کو تسلیم کرتا ہے۔ بنچ نے واضح کیا کہ ایس ایل پی کے زیر التوا رہنے سے ہائی کورٹ کو اس معاملے کا فیصلہ کرنے سے کوئی روک نہیں ہوگی، لیکن طلبہ کے فوری مفاد – جو خاندانی لڑائی کی نذرہوگئے تھے – کے لیے فوجی افسرکو’غیرجانبدارمبصر‘ کا درجہ دینا ضروری تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…