وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک عزت کے معاملے میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی قانونی راحت ملی ہے۔ اعلیٰ عدالت نے ممبئی کی نچلی عدالت میں جاری سماعت اور پوری کارروائی پر عبوری روک لگا دی ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس اپریش کمار پر مشتمل بنچ نے مہاراشٹر حکومت اور معاملے کے شکایت کنندہ ایم ایچ شری شری مال کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس معاملے میں تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔
بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج
راہل گاندھی نے بامبے ہائی کورٹ کے 8 ستمبر 2026 کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ان کے خلاف درج ہتک عزت کے مقدمے اور مجسٹریٹ عدالت کی جانب سے جاری سمن کو منسوخ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ سال 2018 میں رافیل لڑاکا طیاروں کے سودے کے دوران راہل گاندھی کے اس تبصرے کے بعد ممبئی کی گریگاؤں مجسٹریٹ عدالت نے 28 اگست 2019 کو شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں سمن جاری کیا تھا۔ شکایت کنندہ نے دلیل دی تھی کہ وہ بی جے پی کے کارکن ہیں اور وزیر اعظم کے خلاف دیے گئے اس بیان سے انہیں شدید تکلیف پہنچی ہے۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کیا کہا تھا؟
بامبے ہائی کورٹ نے راہل گاندھی کی عرضی خارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی بھارتیہ جنتا پارٹی کے اہم لیڈر ہیں، اس لیے اس تبصرے کو صرف پارٹی کی اعلیٰ قیادت تک محدود نہیں سمجھا جا سکتا۔ ہائی کورٹ کے مطابق، اس بیان کا حقیقی اثر کیا ہوا اور پارٹی کارکنوں پر اس کا کیا اثر پڑا، اس کا فیصلہ مقدمے کی سماعت کے دوران ہی کیا جا سکتا ہے۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ششی تھرور کے ایک پرانے معاملے کا بھی حوالہ دیا تھا، جس میں سیاسی پارٹیوں کو قابل شناخت ادارہ تسلیم کیا گیا تھا۔ تاہم، سپریم کورٹ کی جانب سے عبوری روک لگائے جانے کے بعد نچلی عدالت میں اس معاملے کی قانونی کارروائی فی الحال رک گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…
رشی سونک نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی، آج نئی…
اڈانی ایئرپورٹس کے ڈائریکٹر جیت اڈانی نے ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 1 کی ازسرنو تعمیر…
مغربی بنگال سے ایک حیران کن خبر سامنے آئی ہے۔ ترنمول کانگریس (ممتا دھڑے) نے…
دہلی میں اپوزیشن لیڈروں کی میٹنگ کے بعد راہل گاندھی نے کہا کہ جمہوریت اور…
اڈانی گروپ اور امریکی کمپنی Jabil بھارت میں اے آئی اور ڈیٹا سینٹر سے متعلق…