بھارت ایکسپریس اردو۔
سپریم کورٹ۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی: دارالحکومت دہلی کے میوروہار-2 کے سنجے جھیل پارک میں بنے تین مندروں کوتوڑنے کا نوٹس دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) کے ہارٹی کلچرڈپارٹمنٹ (محکمہ باغبانی) کی طرف سے چسپاں کیا گیا۔ اسی کے بعد بلڈوزرکارروائی کے درمیان ہوئی ہنگامہ آرائی کے سبب معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا۔ اب اس معاملے میں سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی اورعدالت نے راحت دینے سے انکارکرتے ہوئے عرضی خارج کردی۔ ساتھ ہی دہلی ہائی کورٹ جانے کا حکم دیا۔
وکیل وشنوشنکرجین نے کہا کہ رات میں ہی مندرتوڑنے کا عمل شروع کیا گیا اورصبح مندرمنہدم کرنے کے لئے 500 سیکورٹی اہلکاراورافسران پہنچ گئے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ڈی ڈی اے کے وکیل کوکاپی دیجئے۔ وکیل وشنوجین نے کہا کہ 35 سال سے یہ مندرموجود ہے اورسپریم کورٹ کا فیصلہ کہتا ہے کہ 2009 سے پہلے کے مذہبی مقام نہیں ہٹائے جاسکتے ہیں۔
سپریم کورٹ سے نہیں ملی راحت
اس معاملے پرسپریم کورٹ نے کہا کہ آپ ہائی کورٹ کیوں نہیں جاتے۔ وکیل وشنوجین نے کہا کہ جہانگیر پوری معاملے میں سپریم کورٹ نے مداخلت کی تھی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ہائی کورٹ جائیے۔ ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے ان کی عرضی خارج کردی۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں سماعت سے انکار کردیا ہے اور تینوں مندر کمیٹیوں کو ہائی کورٹ جانے کی چھوٹ دی ہے۔ سپریم کورٹ نے عرضی گزاروں سے کہا کہ آپ نے آرٹیکل 32 کے تحت عرضی کیوں داخل کی ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ آپ جتنا ہمیں بتا رہے ہیں، اس معاملے میں بہت کچھ ہے۔
پوری رات ہوئی مخالفت
دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) کی طرف سے تین مندروں کو توڑے جانے کا نوٹس آنے کے بعد سے ہی مقامی لوگ اس فیصلے سے برہم ہوگئے تھے اوراس کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ مندروں پر کوئی کارروائی نہ کی جائے، اسی لئے پوری رات مندروں میں پوجا کی جارہی تھی۔ جہاں پوری رات اس کی مخالفت کی گئی، وہیں نوٹس جاری ہونے کے اگلی صبح ہی 5 بجے انتظامیہ کے ایک درجن سے زیادہ بلڈوزر مندروں کو منہدم کرنےکے لئے پہنچ گئے۔ انتظامیہ کے بلڈوزر کے پہنچنے کے بعد لوگوں نے جم کرمخالفت کی۔ ہنگامہ اس حدتک بڑھ گیا کہ سنجے جھیل پارک میں مندروں پر بلڈوزر سے ہونے والی کارروائی فی الحال غیرمعینہ وقت کے لئے روک دی گئی ہے۔
بلڈوزر ایکشن پر مقامی لوگوں کا ردعمل
مندر کے خلاف کی جانے والی کارروائی کے بعد سیکٹرکے لوگوں کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مندر40 سال پرانی ہیں۔ سبھی مندر رجسٹرڈ ہیں، ہرسال وہاں درگا پوجا ہوتی ہے اور سرسوتی پوجا پروگرام مندروں میں ہوتے آرہے ہیں۔ اسی کے ساتھ سیکٹر کے لوگوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ نوٹس میں ڈپارٹمنٹ کی مہرکے ساتھ افسر کے دستخط بھی نہیں ہیں، اس سے متعلق بھی سوال اٹھائے گئے۔ جن مندردوں پر کارروائی کی جارہی ہے، ان میں مندر کالی باڑی مندر ہے، دوسرا امرناتھ مندر ہے اور تیسرا بدری ناتھ مندر ہے۔ مندرمیں تقریباً 10 سال سے پوجا کرنے والے پجاری کا کہنا ہے کہ یہاں پر کئی سالوں سے وہ پوجا کرتے آئے ہیں۔ کسی طرح کی کوئی پریشانی نہیں ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…