قومی

Uttar Pradesh Assembly Elections 2027:چینی کڑوی،سیاست میٹھی،اپوزیشن کے ہتھیارسے کیا بی جے پی کی حکمت عملی پڑے گی پھیکی؟

اترپردیش میں اسمبلی انتخابات 2027 سے پہلے سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں نے اپنی تیاریاں شروع کردی ہیں، وہیں پس پردہ ممکنہ اتحاد کو لے کر جوڑ توڑ بھی جاری ہے۔ اسی دوران چینی کی بڑھتی قیمتیں ریاست میں ایک بڑے سیاسی مسئلے کے طور پر ابھر رہی ہیں۔ اپوزیشن اسے بی جے پی کے خلاف اہم ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ این ڈی اے کے لیے یہ مسئلہ مشکل کھڑی کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

چینی کا مسئلہ کیوں گرم ہے؟

اترپردیش کو ملک کا ’شوگر باؤل‘ کہا جاتا ہے۔ ریاست میں اس وقت 120 سے زیادہ چینی ملیں چل رہی ہیں اور تقریباً 45 لاکھ سے زیادہ خاندان براہ راست گنے کی کاشت سے وابستہ ہیں۔ خاص طور پر مغربی اترپردیش میں گنا انتخابی سیاست پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اس بار معاملہ اس لیے بھی گرم ہے کیونکہ ایک طرف چینی کی خوردہ قیمت 43 روپے سے بڑھ کر 50 روپے فی کلو سے تجاوز کرگئی ہے، وہیں دوسری طرف کسان گنے کی موجودہ قیمت سے خوش نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ شوگر ملوں پر کسانوں کے بقایاجات کا تقریباً 3 سے 7 فیصد حصہ بھی ابھی زیر التوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چینی اب صرف کچن کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ سیاسی بحث کا مرکز بنتی جارہی ہے۔

اپوزیشن کے لیے کیسے بنی سنجیونی؟

اپوزیشن نے چینی کی بڑھتی قیمتوں کو بنیاد بناکر بی جے پی کو گھیرنا شروع کردیا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے چینی کی قیمتوں میں اضافے کو لے کر مرکز اور اترپردیش کی بی جے پی حکومتوں پر حملہ کیا ہے۔ اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ تہواروں سے عین قبل جان بوجھ کر چینی کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں تاکہ بی جے پی سے وابستہ بڑے صنعت کاروں کو فائدہ پہنچایا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہواروں کے دوران جب ہر گھر میں مٹھائی اور کنفیکشنری کی مانگ بڑھ جاتی ہے، ایسے وقت میں چینی کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر چینی مہنگی ہوگئی ہے تو گلاب جامن، رس گلے اور برفی جیسی مٹھائیوں کی قیمتوں میں کتنا اضافہ ہوگا، کیا کسی نے اس کا حساب لگایا ہے؟

حکومت کے لیے کیوں بن رہی گلے کی ہڈی؟

چینی کی قیمت اور گنے کے بقایاجات کا مسئلہ بی جے پی کے لیے اس لیے اہم ہے کیونکہ گنے کے کسان مغربی اترپردیش میں ایک بڑا ووٹ بینک سمجھے جاتے ہیں۔ 2022 کے اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی نے وعدہ کیا تھا کہ گنے کے کسانوں کو 14 دن کے اندر ادائیگی کردی جائے گی، لیکن کئی اضلاع میں کسانوں کی ادائیگیاں اب بھی 100 سے 120 دن تک تاخیر کا شکار ہونے کی بات سامنے آرہی ہے۔ دوسری جانب چینی ایسی بنیادی چیز ہے جس کی ضرورت تقریباً ہر گھر کی کچن میں ہوتی ہے۔ قیمت بڑھنے کا اثر امیر، متوسط اور غریب، ہر طبقے پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگائی کا یہ مسئلہ شہروں سے لے کر دیہی علاقوں تک لوگوں کی توجہ حاصل کررہا ہے۔ اگر آنے والے دنوں میں چینی کی قیمتیں اور کسانوں کے بقایاجات کا مسئلہ اسی طرح برقرار رہا تو 2027 کے اسمبلی انتخابات میں یہ معاملہ صرف کچن تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ انتخابی نتائج اور ریاست میں حکومت سازی پر بھی اثر ڈالنے والا اہم سیاسی موضوع بن سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Cyclonic Storm ‘Arnab’ in the Bay of Bengal: خلیج بنگال میں سمندری طوفان ’ارنَب‘، بھارت میں ہائی الرٹ، ان ریاستوں میں دکھائی دے گا اثر

سمندری طوفان کے خطرے کو دیکھتے ہوئے اڈیشہ، مغربی بنگال اور آندھرا پردیش میں قومی…

7 minutes ago

Houthis attack Riyadh airport again: حوثی باغیوں کا ریاض ایئرپورٹ پر پھر حملے کا دعویٰ، جیزان میں بحری اڈے کو بھی بنایا نشانہ

 دو ہفتے قبل ہونے والے حملے کے بعد ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی…

43 minutes ago

Lula da Silva Wins Brazilian Presidential Election: لولا ڈا سلوا برازیل کے صدارتی انتخابات میں کامیاب، چوتھی بار اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار

برازیل کے صدارتی انتخاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی پالیسیاں بھی اہم…

1 hour ago

PM Modi’s road show: بھونیشور میں پی ایم مودی کے روڈ شو کو لے کر جوش و خروش، اوڈیشہ کے لوگوں نے کہا- ریاست کی ترقی کو ملے گی نئی رفتار

وزیر اعظم نریندر مودی کے اوڈیشہ دورے کے دوران بھونیشور میں جشن کا ماحول رہا۔…

11 hours ago