نئی دہلی: نیٹ اور دیگر مسابقتی امتحانات میں پیپر لیک کے معاملے پر جاری احتجاج اور سیاسی کشمکش کے درمیان مرکزی وزیر جے پی نڈا نے بدھ کے روز کہا کہ طلبہ کے احتجاج کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے اور اس سے سیاسی فائدہ اٹھانا مناسب نہیں ہے۔ بی جے پی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نڈا نے کہا کہ طلبہ کے مسائل پر گہرائی سے بحث کی ضرورت ہے اور پیپر لیک جیسے سنگین معاملے کا حل سیاسی الزام تراشی کے بجائے سنجیدہ تبادلۂ خیال سے تلاش کیا جانا چاہیے۔
راہل گاندھی نے 150 پیپر لیک کا ذکر کیا
جے پی نڈا نے کہا کہ بدھ کی شام 4 بجے راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں ایک پریزنٹیشن پیش کی، جس میں 150 پیپر لیک کے واقعات کا ذکر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ تحقیقات کا متقاضی ہے اور حکومت اس سلسلے میں تمام سوالات کا جواب دے گی۔ نڈا نے کہا کہ جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، تلنگانہ، تمل ناڈو، پنجاب، کیرالہ اور کرناٹک میں بھی پیپر لیک کے واقعات سامنے آئے ہیں، جہاں کانگریس یا اپوزیشن جماعتوں کی حمایت یافتہ حکومتیں قائم ہیں۔
’آپ نے انڈیا الائنس کی حکومتوں کا ذکر کیوں نہیں کیا؟‘
جے پی نڈا نے راہل گاندھی سے سوال کیا کہ وہ اس معاملے پر ’’منتخب انداز‘‘ میں بات کیوں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’میں راہل گاندھی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ نے ’انڈیا الائنس‘ کی حکومتوں کے بارے میں بات کیوں نہیں کی؟ آپ نے انہیں الگ کیوں رکھا؟‘‘ نڈا نے الزام لگایا کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ راہل گاندھی کا مقصد طلبہ کا مفاد، تعلیم میں اصلاحات یا طلبہ کو انصاف دلانا نہیں ہے، بلکہ وہ طلبہ کے مسائل پر سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ یہ وقت ایک دوسرے پر الزام لگانے کا نہیں ہے۔ پیپر لیک ایک سنگین معاملہ ہے اور اس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن ریاستوں میں پیپر لیک کے واقعات ہوئے ہیں، ان کے بارے میں بھی بات ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر بحث کے لیے سب سے بہترین جگہ پارلیمنٹ ہے، جہاں ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی اور دیگر متعلقہ پہلوؤں پر سنجیدہ غور کیا جا سکتا ہے۔
حکومت کے اقدامات پر بھی پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے
جے پی نڈا نے کہا کہ پیپر لیک کا معاملہ حکومت کے علم میں آنے کے بعد حکومت نے کیا اقدامات کیے، اس پر بھی بحث ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ دیگر ریاستی حکومتوں کو اس مسئلے سے کس طرح نمٹنا چاہیے اور کن نکات پر غور کرکے ایسا حل نکالا جا سکتا ہے جس سے طلبہ کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ نڈا نے کہا کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور اس کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔
’اپوزیشن وقت طے کرے، ہم بحث کے لیے تیار ہیں‘
مرکزی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن بحث کے لیے وقت طے کرے، حکومت اس معاملے پر بحث کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا ’’الزام تراشی نہیں، بلکہ حل پر بحث ہونی چاہیے۔ بحث کے بعد ہمیں ایک ٹھوس پالیسی لے کر آنی چاہیے۔ بچے ملک کا مستقبل ہیں۔ ملک کے مستقبل کی فکر کرنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے۔‘‘ جے پی نڈا نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ تمام فریق مل کر اس مسئلے کا کوئی مستقل حل تلاش کریں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس اسکیم نے علاج کے اخراجات میں ریکارڈ بچت کو…
امت شاہ نے ’’ویژن ڈاکیومنٹ 2026-2029‘‘ کو منشیات کے خطرے کے خلاف جنگ میں شامل…
25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…
سورو داس نے کہا کہ اگر دہلی پولیس کے پاس ان کے، احتجاج یا سپریم…
پی این بی نے یوزر کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں آنے والی ہڑتال کے…
وارانسی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس نوین اروڑہ نے بتایا کہ پولیس نے تقریباً…