اقوام متحدہ کی تجارت اور ترقی کانفرنس (یو این سی ٹی اے ڈی) کی تازہ رپورٹ کے مطابق، بھارت نے 2024 کے آخری سہ ماہی (دسمبر تک) میں مضبوط تجارتی رفتار دکھائی ہے۔ اس عرصے کے دوران بھارت کی برآمدات اور درآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جو اس کی معاشی بحالی اور عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت کی برآمدات میں تنوع اور قدر میں اضافہ ہوا، خاص طور پر الیکٹرانکس، فارماسیوٹیکلز، اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں۔ اس کے علاوہ، بھارت کی درآمدات بھی بڑھیں، جو بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مینوفیکچرنگ کے لیے درکار خام مال کی مانگ کو ظاہر کرتی ہیں۔
یو این سی ٹی اے ڈی کے مطابق، عالمی معاشی چیلنجز جیسے کہ سپلائی چین کے مسائل اور افراط زر کے دباؤ کے باوجود بھارت نے اپنی تجارتی کارکردگی کو برقرار رکھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ حکومت کی برآمدی فروغ کی پالیسیاں، جیسے کہ پروڈکشن لنکڈ انسنٹو (پی ایل آئی) اسکیم، اور علاقائی تجارتی معاہدوں پر توجہ دینا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ بھارت کی خدمات کی برآمدات، خاص طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر کے شعبے میں، مستقل طور پر مضبوط رہی ہیں۔ اس سے بھارت کی معیشت کی لچک اور عالمی سطح پر اس کی مسابقت میں اضافہ ہوا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ رفتار برقرار رہی تو بھارت 2025 میں اپنی معاشی ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ یو این سی ٹی اے ڈی نے بھارت کی اس کارکردگی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک مثال قرار دیا جو عالمی تجارت میں اپنا حصہ بڑھانا چاہتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے…
پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…
گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…
دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…
کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں…
حکام کے مطابق، سڑکوں کے کئی حصے اب بھی متاثر ہیں، جس کی وجہ سے…