قومی

Gujarat Police poster causes nationwide uproar: ’’عصمت دری سے بچنے کے لیے گھر پر ہی رہیں‘‘ گجرات پولیس کے پوسٹر پر ملک بھر میں ہنگامہ، سیاسی جماعتوں کا حکومت پر شدید حملہ

احمد آباد: احمد آباد شہر میں گجرات ٹریفک پولیس کی جانب سے لگائے گئے ایک متنازعہ پوسٹر نے شدید عوامی غم و غصہ اور سیاسی تنازع کو جنم دے دیا ہے۔ ان پوسٹرز میں مبینہ طور پر خواتین کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ عصمت دری سے بچنے کے لیے دیر رات گھر سے باہر نہ نکلیں، جس پر کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے حکومت گجرات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

حفاظت کریں، خوف نہ پھیلائیں

گجرات کانگریس کے صدر امت چاوڑا نے اس معاملے پر سخت الفاظ میں وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل اور ان کے ماتحت وزارت داخلہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی پولیس بیٹیوں کو تحفظ دینے کے بجائے عوامی سطح پر ان کی بے عزتی کر رہی ہے۔ یہ پوسٹر دراصل ریاستی حکومت کی ناکامی کا اعتراف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ گجرات کی بیٹیاں رات گئے تک گربا کھیل کر محفوظ گھر آتی ہیں۔ لیکن اب پولیس خود مان رہی ہے کہ وہ بیٹیوں کی حفاظت نہیں کر سکتی۔

ریاست میں خواتین غیر محفوظ

عام آدمی پارٹی نے بھی ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ عآپ کا کہنا ہے کہ یہ پوسٹر خواتین کی خودمختاری پر حملہ اور حکومت کے کھوکھلے دعووں کا پول کھولنے والے ہیں۔ پارٹی کے مطابق گزشتہ 3 سالوں میں ریاست میں 6500 سے زائد عصمت دری اور 36 اجتماعی عصمت دری کے کیس درج کیے گئے ہیں۔

غیر سرکاری تنظیم نے اجازت کے بغیر پوسٹر چسپاں کیے

معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر (ٹریفک مغرب) نیتا دیسائی نے کہا کہ یہ پوسٹر گجرات ٹریفک پولیس نے نہیں بلکہ ایک غیر سرکاری تنظیم (NGO) نے بغیر اجازت کے چسپاں کیے تھے۔ ان کے مطابق NGO  نے ٹریفک بیداری کے لیے پوسٹرز کی منظوری لی تھی، مگر متنازعہ مواد والے پوسٹر ہم سے چھپائے گئے۔ جیسے ہی یہ بات سامنے آئی، فوری طور پر تمام پوسٹرز ہٹا دیے گئے۔

بحث کا موضوع بن گیا پوسٹر

سوشل میڈیا پر بھی معاملہ بحث کا موضوع بن چکا ہے، جہاں صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ پولیس کا کام عوام کو ڈرانا ہے یا تحفظ دینا؟ بیشتر افراد کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات خواتین کو موردِ الزام ٹھہرانے کے مترادف ہیں اور اصل مجرموں کو کھلی چھوٹ دیتے ہیں۔

یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں خواتین کی سلامتی کے مسائل پر بحث جاری ہے اور حکومتیں خواتین کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دے رہی ہیں۔ تاہم، ایسے پوسٹرز یہ سوال کھڑا کرتے ہیں کہ کیا سکیورٹی ادارے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے ذمہ داری عام شہریوں پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں؟

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

8 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

9 hours ago