نئی دہلی :وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ملک کے عوام سے سونا نہ خریدنے، پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے اور جہاں ممکن ہو وہاں دوبارہ ورک فرام ہوم اپنانے کی اپیل پر تمل ناڈو کی حکمراں جماعت ڈی ایم کے نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی نے وزیر اعظم کے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آخر حکومت عوام سے ایسی اپیلیں کیوں کر رہی ہے اور کیا آنے والے دنوں میں حالات مزید خراب ہونے والے ہیں۔ڈی ایم کے کے ترجمان سَرونن اَنّادورئی نے وزیر اعظم مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انتخابات سے پہلے تک وہ خود پرائیویٹ جیٹ کے ذریعے پورے ملک کا دورہ کرتے رہے، ان کے طویل قافلے سڑکوں پر چلتے رہے، لیکن اب عوام سے ایندھن بچانے اور سادگی اختیار کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوام کے سامنے یہ واضح کرنا ہوگا کہ ایسی اپیلوں کی اصل وجہ کیا ہے۔
ڈی ایم کے ترجمان نے کہا، ’’وزیر اعظم عوام سے سونا نہ خریدنے، غیر ضروری سفر کم کرنے اور ورک فرام ہوم اپنانے کی بات کر رہے ہیں، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت کو کسی بڑے معاشی یا عالمی بحران کا اندیشہ ہے؟‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر صورتحال اتنی سنگین ہے
کہ اس کا براہ راست اثر عام شہریوں کی زندگی پر پڑنے والا ہے تو پھر اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا جا رہا۔
سَرونن اَنّادورئی نے وزیر اعظم کے مجوزہ غیر ملکی دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف عوام سے بیرون ملک سفر مؤخر کرنے کو کہا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب وزیر اعظم خود 15 مئی کو متحدہ عرب امارات، نیدرلینڈز اور سویڈن کے دورے پر جانے والے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں پوچھا، ’’آخر یہ دورے کس مقصد کے لیے کیے جا رہے ہیں؟‘‘دراصل وزیر اعظم نریندر مودی نے حالیہ خطاب میں عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ ڈیزل اور پیٹرول کی بچت کے لیے میٹرو، کار پولنگ اور الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال بڑھائیں۔ انہوں نے نجی کمپنیوں کو مشورہ دیا کہ جہاں ممکن ہو وہاں ملازمین کے لیے دوبارہ ورک فرام ہوم کا نظام نافذ کیا جائے تاکہ ایندھن کی کھپت کم ہو سکے۔
وزیر اعظم نے اس کے علاوہ عوام سے سونا خریدنے سے گریز کرنے، بیرون ملک سفر محدود کرنے اور ’’میک اِن انڈیا‘‘ مصنوعات خریدنے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کسانوں سے کیمیائی کھاد کے کم استعمال کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ کھاد کی ایک بوری حکومت کو تقریباً تین ہزار روپے میں پڑتی ہے اور اس پر بھاری سبسڈی دی جاتی ہے۔مودی کے ان بیانات کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں جہاں اسے ممکنہ معاشی دباؤ یا ایندھن بحران سے جوڑ رہی ہیں، وہیں بی جے پی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی اپیل ملک میں وسائل کے بہتر استعمال اور خود انحصاری کو فروغ دینے کے لیے ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ منوج جھا نے پٹنہ میں چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی)…
ایئر انڈیا کی اس نئی سہولت کا مقصد بیرون ملک پہنچنے کے بعد مقامی سم…
بہار میں راج بھون مارچ کے معاملے پر سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔ اسمبلی…
بدھ کے روز ہی یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ…
بھارتی فضائیہ کے 94ویں یومِ تاسیس کے موقع پر ملک بھر میں جوش و خروش…
معروف بھارتی اداکار نانا پاٹیکر کے انتقال پر صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو اور نائب صدر…