مدھیہ پردیش کے کٹنی ضلع سے ایک دل دہلا دینے والا سڑک حادثہ سامنے آیا ہے، گھر لوٹ رہے ایک ہی خاندان کو ہمیشہ کے لیے اجاڑ دیا۔ جمعرات کی رات ریٹھی تھانہ علاقے میں ہیراپور اور بڑگاؤں کے درمیان ایک تیز رفتار پک اپ گاڑی نے موٹر سائیکل کو زبردست ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ مرنے والوں میں ڈھائی سال کی ایک معصوم بچی بھی شامل ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ خاندان پنا ضلع کے بگوار گاؤں کا رہنے والا تھا اور مزدوری کر کے اپنا گزر بسر کرتا تھا۔ یہ لوگ کٹنی کے برجّی گاؤں میں کام ختم کرنے کے بعد موٹر سائیکل پر اپنے گاؤں واپس لوٹ رہے تھے۔ رات تقریباً 9 بجے سڑک سنسان تھی اور خاندان جلدی گھر پہنچنا چاہتا تھا، مگر انہیں اندازہ نہیں تھا کہ دموں کی سمت سے آ رہا ٹماٹروں سے لدا ایک پک اپ ان کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوگا۔
عینی شاہدین اور پولیس کے مطابق پک اپ کی رفتار انتہائی تیز تھی، جس پر ڈرائیور قابو نہ رکھ سکا اور سامنے سے آ رہی موٹر سائیکل کو زور دار ٹکر مار دی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ موٹر سائیکل کے پرخچے اڑ گئے۔ حادثے میں انو بسور (32)، ونود بسور (30) اور انو کی گود میں بیٹھی ڈھائی سال کی ننھی بھارتی کی موقع پر ہی دردناک موت ہو گئی۔
حادثے کے بعد سڑک پر خون اور چیخ و پکار کا منظر تھا۔ اطلاع ملتے ہی ریٹھی تھانہ انچارج محمد شاہد اور سلیا چوکی انچارج ونود پانڈے پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچے۔ پولیس نے دیکھا کہ چوتھا نوجوان پریم لال بسور (32) ابھی زندہ تھا، جسے فوری طور پر ایمبولینس کے ذریعے ریٹھی کمیونٹی ہیلتھ سینٹر پہنچایا گیا، مگر اسپتال پہنچتے ہی ڈاکٹروں نے اسے بھی مردہ قرار دے دیا۔
اس ہولناک حادثے کے بعد پک اپ ڈرائیور انسانیت کا مظاہرہ کرنے کے بجائے گاڑی موقع پر چھوڑ کر اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جنگل کی طرف فرار ہو گیا۔ پولیس نے چاروں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے اور پک اپ گاڑی کو ضبط کر لیا ہے، جب کہ مفرور ڈرائیور کی تلاش جاری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور…
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے زیر اہتمام ’بزم صحافت‘ کے تحت منعقدہ ’اردو صحافت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے مرکزی وزیر سی آر پاٹل کی جانب سے لکھا گیا…
بہار قانون ساز کونسل کی 4 گریجویٹ اور 4 ٹیچر حلقوں سمیت کل 8 نشستوں…
آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سید احمد خاں نے کہا کہ…
اس حساب سے اگر تقریباً 5 سیکنڈ کی اے آئی ویڈیو تیار کی جائے تو…