نئی دہلی: وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں بائیں بازو کی انتہاپسندی کے خلاف جاری بحث کے دوران راہل گاندھی پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ اپنے سیاسی کیریئر میں کئی مرتبہ نکسلی ہمدردوں کے ساتھ نظر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کو نکسل واد سے پاک بنانے کے لیے پرعزم ہے، لیکن کچھ سیاسی لیڈر ایسے عناصر کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں جو انتہاپسندی کو فروغ دیتے ہیں۔ امت شاہ نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا میں کئی نکسلی فرنٹ تنظیموں نے حصہ لیا تھا، جس کا ریکارڈ ان کے پاس موجود ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2010 میں اڈیشہ میں راہل گاندھی نے لاڈو شیکوکا کے ساتھ اسٹیج شیئر کیا تھا، جہاں مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریر کی گئی اور راہل گاندھی کو مالا پہنائی گئی۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ 2018 میں حیدرآباد میں راہل گاندھی نے گمڑی وٹھل راؤ عرف غدار سے ملاقات کی، جو بائیں بازو کی انتہاپسند سوچ سے قریب سمجھے جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مئی 2025 میں راہل گاندھی نے امن رابطہ کمیٹی کے نمائندوں سے ملاقات کی تھی، جس پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ امت شاہ نے مزید الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب نکسلی کمانڈر مڈوی ہڈما کے مارے جانے کے بعد انڈیا گیٹ پر نعرے لگائے گئے، تو اس سے متعلق ویڈیو راہل گاندھی نے خود سوشل میڈیا پر شیئر کی۔ انہوں نے کہا کہ 1970 سے لے کر مارچ 2026 تک مختلف مواقع پر نکسل واد کے حق میں بیانات سامنے آئے ہیں، جس پر وضاحت ضروری ہے۔
وزیر داخلہ نے نام نہاد ’’اربن نکسلیوں‘‘ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چھ دنوں میں انہوں نے تقریباً دو ہزار مضامین کا جائزہ لیا، جن میں اکثر نے حکومت کو ہتھیار اٹھانے والے ماؤ نوازوں سے بات چیت کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مضامین ان عناصر کے لیے ہمدردی ظاہر کرتے ہیں جو آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہیں، لیکن عام شہریوں کے لیے ہمدردی نظر نہیں آتی جو انہی حملوں میں جان گنواتے ہیں۔ امت شاہ نے بائیں بازو کی سیاست کی تاریخی پس منظر پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ 1925 میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی بنیاد رکھی گئی، جسے روسی کمیونسٹ تحریک سے تحریک ملی تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی جماعت کی بنیاد بیرونی نظریات سے متاثر ہو تو وہ ملک کے مفادات کو کس حد تک ترجیح دے سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1964 میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کا قیام عمل میں آیا اور 1969 میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ-لیننسٹ) تشکیل دی گئی، جس کا مقصد پارلیمانی سیاست کی مخالفت اور مسلح انقلاب کی حمایت تھا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت کا مقصد ملک کو مکمل طور پر نکسل واد سے پاک کرنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں، سیکورٹی اقدامات اور عوامی تعاون کے ذریعے حکومت اس سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی صورت میں تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ملک میں امن و ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…
گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…
دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…
کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں…
حکام کے مطابق، سڑکوں کے کئی حصے اب بھی متاثر ہیں، جس کی وجہ سے…
بیشتر معاملات میں ووٹروں کا ریکارڈ 2002 میں دہلی میں ہونے والی گزشتہ SIR کی…