نئی دہلی: لداخ کے معروف سماجی کارکن اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی آنگمو نے اپنے شوہر کی صحت اور علاج سے متعلق دہلی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ انہوں نے عدالت سے فوری سماعت کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صفدرجنگ اسپتال میں سونم وانگچک کو جس طرح رکھا گیا ہے، وہ ایک طرح کی ’’غیر قانونی حراست‘‘ کے مترادف ہے۔ انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ وانگچک کو کسی نجی اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ انہیں بہتر طبی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔گیتانجلی آنگمو نے اپنی عرضی میں کہا کہ انہیں صفدرجنگ اسپتال کی انتظامیہ پر اعتماد نہیں رہا۔ ان کے مطابق سونم وانگچک کے جسم میں پوٹاشیم کی سطح خطرناک حد تک کم ہو کر 2.9 رہ گئی ہے، جو طبی اعتبار سے نہایت تشویشناک اور جان لیوا صورت حال سمجھی جاتی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ اسپتال کی جانب سے جاری کیے گئے ہیلتھ بلیٹن میں اصل اعداد و شمار ظاہر نہیں کیے گئے بلکہ صرف یہ بتایا گیا کہ پوٹاشیم کی مقدار کم ہے۔ انہوں نے عدالت سے یہ بھی درخواست کی کہ انہیں ان ڈاکٹروں سے ملاقات کی اجازت دی جائے جو وانگچک کا علاج کر رہے ہیں تاکہ وہ ان کی صحت کے بارے میں درست معلومات حاصل کر سکیں۔
قابل ذکر ہے کہ سونم وانگچک گزشتہ 21 روز سے جنتر منتر پر کوکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبے کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔ ہفتہ کے روز ان کی طبیعت اچانک زیادہ خراب ہونے کے بعد پولیس نے انہیں صفدرجنگ اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق فی الحال ان کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔ادھر سونم وانگچک کو جنتر منتر سے ہٹائے جانے کے معاملے پر عام آدمی پارٹی نے مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے کہا کہ حکومت کو طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق تعلیمی اصلاحات، امتحانی نظام میں شفافیت اور پیپر لیک جیسے سنگین مسائل کے حل پر توجہ دینے کے بجائے احتجاج کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کیجریوال نے کہا کہ سونم وانگچک اور ان کے ساتھی نوجوانوں کے مستقبل اور تعلیم سے متعلق اہم مسائل اٹھا رہے ہیں، اس لیے حکومت کو ان کے مطالبات سننے چاہئیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جمہوری انداز میں اپنی آواز بلند کریں اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق معاملات پر متحد ہوں۔دوسری جانب عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا سمیت راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے بھی پولیس کارروائی پر اعتراض ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور حکومت کو انتظامی کارروائی کے بجائے مکالمے کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔
بھارت ایکسپریس اردو
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…
فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…