سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد مرکزی حکومت نے لداخ کے مشہور سماجی و ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک پر عائد قومی سلامتی ایکٹ کو فوری طور پر واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے ہفتہ کو جاری بیان میں کہا گیا کہ حکم نامہ فوری اثر سے نافذ ہوگا اور اس کے ساتھ ہی وانگچک کی حراست منسوخ سمجھی جائے گی۔ سرکاری معلومات کے مطابق وانگچک اپنی حراست کی مدت کا تقریباً نصف حصہ مکمل کر چکے تھے اور اسی بنیاد پر حکومت نے حراست منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔
یاد رہے کہ انہیں 26 ستمبر 2025 کو قومی سلامتی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں راجستھان کی جودھپور سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس سے قبل 24 ستمبر 2025 کو لداخ میں ان کے احتجاج کے دوران حالات کشیدہ ہو گئے تھے اور کچھ مقامات پر تشدد کے واقعات بھی پیش آئے تھے۔ ان واقعات میں چار افراد کی موت اور تقریباً 90 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں جس کے بعد انتظامیہ نے سخت کارروائی کرتے ہوئے وانگچک کو حراست میں لے لیا تھا۔ حکومت کا موقف تھا کہ احتجاج کے دوران پیدا ہونے والی کشیدگی اور ہنگامہ آرائی نے امن و امان کے لیے خطرہ پیدا کر دیا تھا۔
جودھپور سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ پردیپ لکھاوت نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں اس فیصلے کی اطلاع ایک پریس نوٹ کے ذریعے ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی باضابطہ حکم موصول ہوگا جیل ضابطوں کے مطابق رہائی سے متعلق آئندہ کارروائی شروع کر دی جائے گی۔ قومی سلامتی ایکٹ ایک ایسا قانون ہے جس کے تحت حکومت کسی بھی شخص کو ملک کی سلامتی یا عوامی نظم کو لاحق خطرے کے پیش نظر حراست میں رکھ سکتی ہے۔ اس قانون کے تحت کسی فرد کو زیادہ سے زیادہ 12 ماہ تک نظر بند رکھا جا سکتا ہے۔
سونم وانگچک گزشتہ کئی برسوں سے لداخ کے ماحولیاتی تحفظ اور مقامی حقوق کے مسائل پر سرگرم آواز کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ خطے کو مکمل ریاستی درجہ دینے اور آئینی تحفظ فراہم کرنے کے مطالبے کو لے کر مہم چلا رہے تھے۔ ان کی تعلیمی اور سماجی خدمات کے باعث انہیں ملک اور بیرون ملک بھی خاصی پہچان حاصل ہوئی ہے۔ وانگچک کی حراست ختم ہونے کے فیصلے کو لداخ میں ان کے حامیوں نے بڑا قدم قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اب بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…
SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…
بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا آغاز پولنگ بوتھ سے نہیں بلکہ ووٹر…
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہا کہ…
کوہلی ورلڈ کپ کی تاریخ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شامل رہے ہیں۔ انہوں…
جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…