قومی

Sonam Wangchuk Hunger Strike: سونم وانگچک بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے تیار، حکومت کے سامنے رکھی یہ بڑی شرط

سماجی کارکن سونم وانگچک نے بدھ کے روز اپنی غیر معینہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے ’سنسد چلو‘ احتجاج میں شامل ہونے والے مظاہرین کے خلاف کسی بھی قسم کی ’’سزا دینے والی یا انتقامی قانونی کارروائی‘‘ نہ کرنے کی واضح ضمانت دی جائے۔ سونم وانگچک کی غیر معینہ بھوک ہڑتال کا بدھ کے روز 25واں دن ہے۔ انہوں نے یہ احتجاج نیٹ-یو جی پرچے کے مبینہ پیپرلیک معاملے پر مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے ساتھ شروع کیا تھا۔

’مظاہرین نے کوئی جرم نہیں کیا ہے‘

ایکس پر جاری ایک بیان میں وانگچک نے کہا کہ تحریک میں شامل ہو کر مظاہرین نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ’’اس لیے میں حکومت سے مؤدبانہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ واضح طور پر یقین دہانی کرائے کہ ان نوجوان مظاہرین میں سے کسی کو بھی اس تحریک میں شرکت کے لیے کسی قسم کی سزا دینے والی یا انتقامی قانونی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ان کا واحد ’جرم‘ ایک منصفانہ اور جواب دہ تعلیمی نظام کے لیے اپنی آواز بلند کرنا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا ’’اگر ایسی یقین دہانی دی جاتی ہے تو میں اس یقین کے ساتھ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دوں گا کہ حکومت نے نہ صرف میری اپیل بلکہ لاکھوں نوجوان ہندوستانیوں کی امنگوں کو بھی سنا ہے۔ ایسی یقین دہانی نہ ملنے کی صورت میں مجھے اپنی بھوک ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ مجھے یہ بھی امید ہے کہ تحریک کو دبانے کے لیے پولیس کی جانب سے طاقت کا مزید غیر ضروری استعمال نہیں کیا جائے گا۔‘‘

’جوابدہی یقینی بنانے کے لیے بامعنی بحث‘

وانگچک نے وزیرمملکت برائے وزیراعظم کا دفتر جتیندر سنگھ اور مرکزی وزیرصحت جگت پرکاش نڈا کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے گزشتہ رات اسپتال پہنچ کر ان سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے نیٹ-یو جی پیپرلیک معاملے کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہلِ خانہ کو مناسب معاوضہ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وانگچک کے مطابق مرکزی وزرا نے پارلیمنٹ میں ’’جوابدہی یقینی بنانے کے لیے بامعنی بحث‘‘ کی بھی یقین دہانی کرائی جس میں ’’معزز وزیرتعلیم کے استعفے پر غور‘‘ بھی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 65 ارکان پارلیمنٹ ان سے ملاقات کر چکے ہیں اور ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

’’20 جولائی کا سنسد مارچ پُرامن رہا‘‘

سونم وانگچک نے کہا کہ 20 جولائی کا ’ سنسد مارچ‘ پولیس کی مبینہ زیادتی اور طاقت کے غیر متناسب استعمال کے باوجود ’’انتہائی پُرامن‘‘ رہا۔ انہوں نے کہا ’’مجھے پوری امید ہے کہ جمہوری اداروں پر اس اعتماد کو ان افراد کے خلاف قانونی مقدمات، ہراسانی یا انتقامی کارروائی کے ذریعے مزید کمزور نہیں کیا جائے گا جو اس احتجاج میں شامل ہوئے تھے۔‘‘

دہلی پولیس نے درج کیں 10 ایف آئی آر

دریں اثنا، دہلی پولیس نے قومی دارالحکومت میں کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے منعقدہ احتجاج کے سلسلے میں 10 ایف آئی آر درج کی ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ نے بھی پولیس کی جانب سے احتجاج کے دوران طاقت کے مبینہ حد سے زیادہ استعمال سے متعلق تین مفادِ عامہ کی عرضیوں پر مرکز اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے حکام کو واقعے سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر تمام متعلقہ الیکٹرانک ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ دریں اثنا میدانتا اسپتال نے ایک بیان میں کہا کہ سونم وانگچک کا علاج ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کر رہی ہے۔ اسپتال کے مطابق ’’فی الحال ان کی حالت مستحکم ہے، وہ ہوش و حواس میں ہیں اور ان کی اہم جسمانی علامات قابل قبول حدود میں ہیں۔ انہیں دیا جانے والا تمام علاج ان کی رضامندی کے مطابق کیا جا رہا ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

National Ayurveda Day 2026: ’دنیا کے لیے پائیدار صحت کا ماڈل ہے بھارت کا آیوروید‘، قومی آیوروید دن پر امت شاہ نے کیا کہا؟

قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…

16 minutes ago

Ayushman Bharat 8 Years: ’دنیا کی سب سے بڑی ہیلتھ اسکیم‘، آیوشمان بھارت کے 8 سال مکمل ہونے پر پی ایم مودی نے کیا کہا؟

مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…

28 minutes ago

Gold Flake Cigarettes Get Costlier: گولڈ فلیک سگریٹ ہوئی مہنگی، جانئے 10 اور 20 سگریٹ والے پیکٹ کی نئی قیمت

سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا…

2 hours ago