قومی

CJP Vs BJP Government: نیٹ پیپر لیک پر آر پار! مرکزی وزیر جے پی نڈا کی دعوت پر سی جے پی ترجمان سوربھ داس بولے: ’’ہماری مانگیں پوری کریں، تب ہی ہمیں بلائیں‘‘

جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا احتجاج بدھ کے روز بھی جاری رہا۔ اس دوران تنظیم کے مرکزی ترجمان سوربھ داس نے کہا کہ ان کا وقت بہت قیمتی ہے اور وہ مرکزی وزیر جے پی نڈا سے اسی وقت ملاقات کریں گے جب حکومت ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنے اور انہیں پورا کرنے کے لیے تیار ہوگی۔

جے پی نڈا کی دوسری دعوت، مگر ملاقات سے انکار

سوربھ داس نے بتایا کہ مرکزی وزیر جے پی نڈا کی جانب سے انہیں دوسری بار بات چیت کے لیے مدعو کیا گیا ہے، تاہم اس بار وہ وزیر کے گھر یا دفتر نہیں جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ملاقات کے دوران انہیں تقریباً چار گھنٹے انتظار کرایا گیا تھا۔ داس نے کہا، ’’ہم نے اپنی بات واضح کر دی ہے۔ اگر ہمارے مطالبات پر عمل کرنا ہے تو ہی ہمیں مذاکرات کے لیے بلایا جائے۔ ہم صرف رسمی ملاقات کے لیے اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے۔‘‘

راہل گاندھی کے احتجاج کی حمایت

سی جے پی کے ترجمان نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر کانگریس رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے احتجاج کی حمایت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ قائد حزب اختلاف ہونے کے ناطے حکومت سے سوال پوچھنا اور احتجاج کرنا راہل گاندھی کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے جس انداز میں احتجاج کیا، وہ انہیں درست لگا۔ ان کے مطابق جمہوریت میں اختلاف رائے اور احتجاج کی مکمل گنجائش ہونی چاہیے۔ سوربھ داس نے کہا کہ سی جے پی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کا بنیادی مطالبہ ایک ہی ہے کہ نیٹ پیپر لیک معاملے میں ذمہ داری طے کی جائے اور مرکزی وزیر تعلیم سے استعفیٰ لیا جائے۔

تشدد کے الزامات پر وضاحت

احتجاج کے دوران صحافیوں، پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ مبینہ جھڑپوں کے حوالے سے سوربھ داس نے کہا کہ 20 جولائی کو پولیس نے سب سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا تھا۔انہوں نے الزام لگایا کہ متعدد مظاہرین زخمی ہوئے اور کئی نوجوانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی تحریک میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص پرتشدد سرگرمی میں ملوث ہوتا ہے تو پولیس کو اس کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے، کیونکہ ایسے واقعات پوری تحریک کی شبیہ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔انہوں نے نوجوان مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، کیونکہ تشدد سے تحریک کمزور پڑ سکتی ہے اور اصل مقصد پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

الزامات کا جواب

سی جے پی کو عام آدمی پارٹی کی بی ٹیم قرار دیے جانے کے سوال پر سوربھ داس نے کہا کہ ان کی تنظیم پر طرح طرح کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں نے تو انہیں دہشت گرد تک قرار دے دیا، لیکن ملک کے نوجوان حقیقت کو سمجھتے ہیں اور ان کی حمایت کر رہے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ احتجاجی مقام پر لوگ بغیر کسی اپیل کے مظاہرین کے لیے کھانے اور پانی کا انتظام کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مخالفت کرنے والوں پر طنزیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو لوگ پیسے لے کر ان کے خلاف پوسٹ کر رہے ہیں، وہ اپنا کام کرتے رہیں۔ سوربھ داس نے کہا کہ ان کا مقصد کسی کا روزگار چھیننا نہیں بلکہ نیٹ پیپر لیک جیسے سنگین معاملے میں جوابدہی طے کرانا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Rahul Gandhi Statement: ’آج نہیں تو کل، جیت ہماری ہی ہوگی‘، اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ کے بعد راہل گاندھی کا بیان

دہلی میں اپوزیشن لیڈروں کی میٹنگ کے بعد راہل گاندھی نے کہا کہ جمہوریت اور…

23 minutes ago

Adani Group: اے آئی کی سونامی کے لیے بھارت تیار! اڈانی گروپ اور امریکی کمپنی Jabil مل کر ملک میں بنائیں گے سرور اور کولنگ سسٹم

اڈانی گروپ اور امریکی کمپنی Jabil بھارت میں اے آئی اور ڈیٹا سینٹر سے متعلق…

46 minutes ago

HM Amit Shah’s reply to Rahul Gandhi: امت شاہ کا راہل گاندھی کو دوٹوک جواب، کہا- 2029 میں چوتھی شکست کے لیے تیار رہیں

وزیر داخلہ امت شاہ نے ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش…

1 hour ago

Prime Minister Narendra Modi: ڈیجیٹل سہولتوں سے گرین انرجی تک، وزیر اعظم نریندر مودی نے دنیا کے سامنے گنوائیں بھارت کی کامیابیاں

وزیر اعظم نے ڈیجیٹل سسٹم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ٹیکنالوجی کی…

2 hours ago