دہلی کے جنتر منتر پر تعلیم کے نظام اور مبینہ نیٹ پیپر لیک کے خلاف جاری احتجاج کے دوران لداخ کے سماجی کارکن سونم وانگچک کی حمایت میں سوشل میڈیا پر متعدد پوسٹس اور ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں۔ ان میں بعض صارفین انہیں فلم ’3 ایڈیٹس‘ کے کردار ’فنسکھ وانگڈو‘ سے جوڑتے ہوئے عوام سے ان کی حمایت کی اپیل کر رہے ہیں۔
کیا سونم وانگچک ہی ’فنسکھ وانگڈو‘ ہیں؟
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان دعوؤں کے برعکس سونم وانگچک ماضی میں خود واضح کر چکے ہیں کہ وہ فلم ’3 ایڈیٹس‘ کے کردار فنسکھ وانگڈو یا رینچو کی اصل شخصیت نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم سازوں نے اس کردار کی تیاری کے دوران ان سے کوئی مشورہ نہیں لیا تھا، اگرچہ فلم کی شوٹنگ ان کے تعلیمی ادارے میں ضرور ہوئی تھی۔
فلم سازوں نے بھی وضاحت کی
بعد ازاں فلم کے ہدایت کار راج کمار ہیرانی اور مرکزی اداکار عامر خان نے بھی واضح کیا تھا کہ فلم کا رینچو یا فنسکھ وانگڈو کا کردار براہِ راست سونم وانگچک پر مبنی نہیں تھا بلکہ مختلف حقیقی تجربات اور ایک ایسے نوجوان سے متاثر ہو کر تخلیق کیا گیا تھا جو فلم سازی کے شعبے میں آنا چاہتا تھا۔
خاندان کا سیاسی پس منظر
سونم وانگچک کا تعلق لداخ کے ایک معروف سیاسی خاندان سے ہے۔ ان کے والد سونم وانگیال 1972 میں لیہ سے کانگریس کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور 1975 میں جموں و کشمیر حکومت میں وزیر مملکت بھی رہ چکے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے خاندان کا کانگریس سے پرانا سیاسی تعلق بتایا جاتا ہے۔
پیٹنٹ اور خاندانی پس منظر سے متعلق دعوے
سوشل میڈیا پر یہ دعوے بھی کیے جاتے ہیں کہ سونم وانگچک کے نام سیکڑوں پیٹنٹ درج ہیں یا وہ انتہائی غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم ایسی باتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ ان دعوؤں کے حوالے سے مختلف آراء موجود ہیں اور ان کی مستند سرکاری توثیق دستیاب نہیں ہے۔
مالی اور انتظامی معاملات پر الزامات
سونم وانگچک اور ان کے ادارے ہمالین انسٹی ٹیوٹ آف آلٹرنیٹو لرننگ (HIAL) پر لداخ انتظامیہ کی جانب سے الاٹ کی گئی زمین سے متعلق مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ ان میں لیز کی رقم کی ادائیگی، پریمیم سے متعلق معاملات اور دیگر انتظامی مسائل شامل ہیں۔ تاہم ان معاملات میں عدالتی اور قانونی کارروائیاں اپنی جگہ جاری ہیں اور الزامات پر حتمی فیصلہ آنا باقی ہے۔
غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق تحقیقات
سونم وانگچک اور ان کے اداروں کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق قوانین (FCRA) کی مبینہ خلاف ورزیوں پر بھی تحقیقات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق متعلقہ ایجنسیاں مالی لین دین اور بینک کھاتوں سے متعلق بعض معاملات کی جانچ کر رہی ہیں۔ تاہم ان الزامات پر بھی ابھی تک کسی عدالت کی جانب سے حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے، اس لیے انہیں فی الحال الزامات ہی سمجھا جاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
’Switcheko‘ کا موبائل ویسٹ پروسیسنگ ماڈل، کچرا پیدا ہونے والی جگہ پر ہی کرے گا…
بنگال کی خلیج میں بننے والے موسمی نظام اور ہمالیائی خطے میں فعال مغربی ہواؤں…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارت کی شاندار شروعات، منی پور کی روشیبینا دیوی نے…
چین کے صدر شی جن پنگ تین روزہ دورے پر واشنگٹن پہنچ گئے، صدر ڈونلڈ…
اتر پردیش کے گریٹر نوئیڈا میں یمنا ایکسپریس وے پر ایک دل دہلا دینے والا…
’سیوا یاترا‘ میں شامل نوجوان اسکولوں، اسپتالوں، یتیم خانوں اور اولڈ ایج ہومز میں صفائی…