نئی دہلی :عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر ماہرِ تعلیم سونم وانگچک سے ملاقات کے بعد ان کی بھوک ہڑتال کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے 20 جولائی کو بڑے پیمانے پر پرامن احتجاج اور پارلیمنٹ مارچ کی اپیل کی ہے۔ سونم وانگچک مبینہ امتحانی پرچہ لیک کے معاملات، تعلیمی نظام میں شفافیت اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر گزشتہ کئی دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔کیجریوال نے کہا کہ دھرمیندر پردھان کی جگہ سونم وانگچک کو ملک کا وزیر تعلیم بنایا جانا چاہیے، کیونکہ وہ تعلیمی نظام میں انقلابی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو شاید یہی خوف ہے کہ اگر سونم وانگچک کو موقع ملا تو وہ ملک کے فرسودہ تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات لے آئیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ تعلیمی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے صرف انقلابی اقدامات ہی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
جنتر منتر پر ملک کی بیٹی اور طلبہ کے مستقبل کے لیے گزشتہ 19 دنوں سے بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہے۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ آگے آئیں، اس بہن کی آواز بنیں اور اسے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
जंतर मंतर पर एक माँ की बेटी Student के लिए पिछले 19 दिनों से hunger strike कर रही है ।
आप सभी से अनुरोध है कि इस बहन को बचा लीजिए 🙏🙏🙏 pic.twitter.com/l9Cu13xYas— Parmanand Azamgarhi (@parmanandyadavv) July 16, 2026
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں متعدد اساتذہ نے پیپر لیک کے خلاف آواز اٹھائی، لیکن انہیں گرفتار کیا گیا، ان پر مقدمات درج ہوئے اور مختلف طریقوں سے ہراساں کیا گیا۔ کیجریوال نے ایسے تمام اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سونم وانگچک بھی نوجوانوں کے مستقبل کے لیے اپنی جان داؤ پر لگائے ہوئے ہیں۔اروند کیجریوال نے الزام لگایا کہ گزشتہ چند برسوں سے امتحانی پرچوں کے مسلسل لیک ہونے سے نوجوانوں کا اعتماد متزلزل ہوا ہے۔ ان کے مطابق پہلے طلبہ کو یقین ہوتا تھا کہ محنت اور قابلیت کے ذریعے وہ کامیابی حاصل کر سکتے ہیں، لیکن اب بار بار ہونے والے پیپر لیک نے اس اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جو ملک کے مستقبل کے لیے تشویشناک ہے۔
We’re really very proud of you Sonam ji… pic.twitter.com/rxKrJTtwy7
— Arvind Kejriwal (@ArvindKejriwal) July 16, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2024 کے مبینہ پیپر لیک کیس کے مرکزی ملزم کو ضمانت مل گئی اور اب یہ ایک مستقل نظام بن چکا ہے، جس میں ہر سال پیپر لیک، تحقیقات، گرفتاریاں اور پھر ضمانت کا سلسلہ دہرایا جاتا ہے۔ کیجریوال نے مزید کہا کہ نیٹ امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے بعد 20 سے زائد طلبہ نے خودکشی کی، لیکن حکومت نے اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ انہوں نے سی بی ایس ای کے امتحانی جائزہ نظام پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار اداروں کے خلاف مناسب کارروائی نہیں کی گئی۔اپنے خطاب میں کیجریوال نے 2011 کی انا ہزارے تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی حکومت نے عوامی آواز کو نظر انداز کیا تھا اور چند برس بعد اقتدار سے باہر ہوگئی۔ انہوں نے موجودہ حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر نوجوانوں اور سونم وانگچک کی آواز نہ سنی گئی تو اسے بھی عوامی ناراضی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس موقع پر عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے بھی احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھروں سے نکل کر 20 جولائی کو جنتر منتر پہنچیں اور پرامن انداز میں اس تحریک کا حصہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ سونم وانگچک کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ ملک کے کروڑوں نوجوانوں اور ان کے مستقبل کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
مکسڈ مارشل آرٹس ان چھ نئے کھیلوں میں شامل ہے جنہیں آیچی-ناگویا ایشین گیمز میں…
3 ان 1 ٹی وی، او ٹی ٹی اور وائی فائی پلان کے نئے اور…
25 اور 26 ستمبر کو ہونے والی دو روزہ چوٹی کانفرنس میں خواتین صنعت کاروں،…
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیاں سیمسنگ الیکٹرانکس اور ایس کے ہائنکس…
پولیس نے اس معاملے میں 2 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ دونوں سے پوچھ…
ایشین گیمز 2026 کے دوسرے دن ہندوستان نے دو تمغے اپنے نام کیے تھے۔ 10…