گجرات کے بناس کانٹھا میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کئی ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا اور ان کا افتتاح کیا۔ اس دوران ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے زراعت، مویشی پروری اور دیہی معیشت کے حوالے سے مرکزی حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کیا اور اپوزیشن کو بھی نشانہ بنایا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ کھیتی باڑی ہمارے ملک کی روایت بھی ہے اور ثقافت بھی۔ گزشتہ 12 برسوں میں ہماری حکومت نے اس میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر شامل کیا ہے۔
سوائل ہیلتھ کارڈ سے کھیتی باڑی میں جدیدیت آئی
اس کی مثال دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سوائل ہیلتھ کارڈ اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ پہلے کسانوں کو یہ معلوم کرنے میں دشواری ہوتی تھی کہ ان کے کھیت کو کون سی کھاد اور کتنی مقدار میں درکار ہے۔ سوائل ہیلتھ کارڈ نے اس مسئلے کا حل فراہم کیا ہے۔ آج ہمارے کسانوں کے پاس 26 کروڑ سے زیادہ سوائل ہیلتھ کارڈ موجود ہیں۔ اس سے کھیتی باڑی کے طریقوں میں جدیدیت آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسم میں ہونے والی تبدیلی کسانوں کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے، اسی لیے حکومت کی کوشش ہے کہ کسانوں کو مسلسل نئی اقسام کے بیج دستیاب کرائے جائیں، جو موسمی حالات کے مطابق ہوں۔ گزشتہ برسوں میں کسانوں کو بیجوں کی تقریباً 3 ہزار نئی اقسام فراہم کی گئی ہیں۔
مویشی پروری میں سائنسی طریقوں پر زور
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ مویشی پروری ہماری دیہی معیشت کا اہم حصہ ہے اور اس میں خواتین کی بہت بڑی شراکت ہے۔ گزشتہ دہائی میں ہم نے مویشی پروری میں بھی سائنسی طریقوں پر زور دیا ہے، تاکہ دودھ کی پیداوار میں اضافہ ہو۔ آپ راشٹریہ گوکل مشن کے بارے میں جانتے ہیں، اس کے تحت دیسی نسلوں کی سائنسی افزائش اور تحفظ کو فروغ دیا جارہا ہے۔ بناس کانٹھا میں قائم ریسرچ سینٹر اس مشن کو مزید مضبوط بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئی وی ایف جیسی جدید تکنیک اس کام میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا، “مویشیوں کو بیماریوں سے بچانا بھی ہماری ترجیح ہے۔ ہم نے ملک میں مویشیوں کے لیے مفت ٹیکہ کاری مہم شروع کی۔ اب تک مویشیوں کو 150 کروڑ ٹیکے لگائے جاچکے ہیں۔ 8 کروڑ سے زیادہ کسانوں کے مویشیوں کو مفت ٹیکے لگائے گئے ہیں۔ اس سے مویشی پالنے والوں پر اخراجات کا بوجھ بھی کم ہوا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “ان کوششوں کا اثر دودھ کی پیداوار میں بھی نظر آرہا ہے۔ 14-2013 میں ایک گائے یا بھینس سے روزانہ اوسطاً 5 لیٹر سے بھی کم دودھ حاصل ہوتا تھا، آج یہ اوسط بڑھ کر تقریباً 8 لیٹر ہوگیا ہے۔ ہندوستان میں دودھ کی پیداوار کی صلاحیت دنیا میں سب سے تیز رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ ہندوستان دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، اس کا مطلب ہے کہ کسان خاندانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔”
بائیو سی این جی پلانٹس سے گوبر کا بھی ہوگا مکمل استعمال
وزیر اعظم نے بتایا کہ آج یہاں دو بائیو سی این جی پلانٹس کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا ہے۔ ہمارا مقصد واضح ہے کہ مویشی صحت مند رہیں، دودھ کی پیداوار بڑھے اور گوبر کا بھی مکمل استعمال ہو۔ ہم مویشی پروری کو محض روایت نہیں بلکہ کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور گاؤں کو خوشحال بنانے کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماہی پروری کے شعبے میں بھی توسیع ہوئی ہے۔ ہندوستان کی سمندری خوراک (سی فوڈ) کی برآمدات دو گنا سے زیادہ ہوگئی ہیں۔ ماہی پروری کے شعبے میں تعاون پر مبنی نظام کو بھی فروغ دیا جارہا ہے۔
شہد کی پیداوار دوگنی ہوئی، خواتین کا کردار بڑھا
شہد کی مکھیوں کی پرورش سے بھی کسانوں کو آمدنی کا ایک اور ذریعہ ملا ہے۔ گزشتہ 12 برسوں میں شہد کی پیداوار دوگنی ہوگئی ہے۔ ہمارا ملک قدرتی شہد کا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا برآمد کنندہ بن گیا ہے اور اس سویٹ ریوولوشن میں خواتین کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔
بناس کانٹھا کے آلو دنیا بھر میں مشہور
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بناس کانٹھا کے آلو آج دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ پھلوں اور سبزیوں کی کاشت کرنے والے کسانوں کے لیے کلسٹر ڈیولپمنٹ پروگرام چلایا جارہا ہے۔ اس کے تحت آج 12 کلسٹروں کو منظوری دی گئی ہے۔ یہ کلسٹر ٹماٹر، ہری مرچ، انگور، کیلا، پیاز، سنترہ، انار اور کوکو جیسی پھلوں اور سبزیوں سے متعلق ہیں۔ اس پورے منصوبے کے لیے سبسڈی دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ آج گجرات کو دو نئی ریل خدمات بھی ملی ہیں، جن میں احمد آباد-سابرمتی-وارانسی ایکسپریس اور مہسانہ-بیچراجی-سابرمتی میمو ٹرین شامل ہیں۔
اپوزیشن پر نشانہ، ملک میں افراتفری پھیلانے کا الزام
وزیر اعظم مودی نے اپوزیشن کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ آج ملک کا ہر کسان اور ہر نوجوان ترقی یافتہ ہندوستان بنانے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگوں کو یہ اچھا نہیں لگ رہا۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو ملک کو مشکل میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا منصوبہ ملک میں افراتفری پھیلانا تھا تاکہ وہ ’مودی‘ کو بدنام کرسکیں۔ اس کی تازہ مثال ایران اور خلیجی ممالک کے آس پاس جاری کشیدگی ہے۔ جب ہندوستان متحد ہوکر اس صورت حال کا سامنا کرنے میں مصروف ہے، تب یہ لوگ افواہیں پھیلانے میں لگے رہے۔ افواہیں پھیلائی گئیں اور کسانوں کو کھاد کی قلت کے نام پر ڈرایا گیا۔ ان کا منصوبہ ملک میں افراتفری پھیلانا تھا تاکہ مودی کو بدنام کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی آج بھی جاری ہے، لیکن ہم نے کسانوں کے لیے کھاد کی کمی نہیں ہونے دی۔ اس جنگ کی وجہ سے دنیا میں کھاد کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں۔ دنیا میں یوریا کی جو بوری 3 ہزار روپے میں ملتی ہے، وہی بوری ہندوستان کے کسانوں کو 300 روپے سے بھی کم میں مل رہی ہے۔ ڈی اے پی کھاد کی قیمت دنیا میں 5 ہزار روپے سے اوپر پہنچ گئی ہے، لیکن ہندوستان کے کسانوں کو وہی بوری 1,350 روپے میں مل رہی ہے۔ ملک یہ مدد اس لیے فراہم کررہا ہے تاکہ ہمارے کسان بااختیار بنیں۔
ترقی یافتہ ہندوستان کے عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کی اپیل
وزیر اعظم نے کہا کہ غیر یقینی صورت حال سے بھری دنیا میں ہندوستان کی تیز رفتار ترقی پوری دنیا کے لیے ایک نئی امید ہے۔ ایسے میں ہمیں ایک ہندوستان، شریشٹھ ہندوستان کے راستے پر مسلسل آگے بڑھنا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا، “میں صرف دو باتیں جانتا تھا۔ پہلی، عوامی خدمت سے ملک کی خدمت اور دوسری، گجرات کی ترقی سے ملک کی ترقی۔ میں ملک کے لیے جو کچھ بھی کرپایا ہوں، اس کا سہرا تمام ہم وطنوں کو جاتا ہے۔ اس کے لیے میں زندگی بھر آپ کا مقروض رہوں گا اور آخری لمحے تک آپ کی خدمت میں مصروف رہوں گا۔” آخر میں انہوں نے ملک کے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ’رن فار یونٹی‘ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ہائی کورٹ نے اس معاملے میں متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے…
ویڈیو میں ڈیرن نے دعویٰ کیا تھا کہ ہندو مذہب کے مقدس مقام کاشی کے…
ہیمنت بسوا سرما نے کہا کہ ہوٹلوں کے ان معروف برانڈز کی موجودگی سے گوہاٹی…
وزیر اعظم نے گجرات کے بناس کانٹھا میں ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد اور افتتاح…
ریاستی بی جے پی صدر پنکج چودھری نے کہا کہ امت شاہ کی رہنمائی سے…
بہار کے موکاما سے رکن اسمبلی اننت سنگھ کو سپریم کورٹ سے جھٹکا، عدالت نے…