قومی

Cafe Kashi Case against YouTuber: کیفے کاشی پر بیف پر تنازع، فرقہ وارانہ تبصرے کرنے کے الزام میں یوٹیوبر کے خلاف مقدمہ درج، سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل

نئی دہلی : کیرالہ کے فورٹ کوچی میں واقع کاشی آرٹ کیفے کے بارے میں سوشل میڈیا پر مبینہ فرقہ وارانہ تبصرے کرنے کے معاملے میں یوٹیوبر امرت سنگھ ڈیرن کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کیا ہے۔ انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کیے گئے تبصروں کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر کرنے والا قرار دیتے ہوئے فورٹ کوچی پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 353(2) اور 192 کے تحت کارروائی کی ہے۔ ان دفعات کا تعلق مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے اور فساد بھڑکانے کے ارادے سے اشتعال انگیزی کرنے سے ہے۔ایف آئی آر کے مطابق، ڈیرن نے یہ ویڈیو اس بات کا علم ہونے کے باوجود شیئر کی کہ ان کے تبصروں سے عوامی امن و امان متاثر ہوسکتا ہے اور دو مذہبی برادریوں کے درمیان تصادم کی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو پر لوگوں نے حمایت اور مخالفت میں ردعمل ظاہر کیا۔ کیرالہ کے کئی یوزر نے بھی ویڈیو میں کیے گئے دعوؤں اور تبصروں پر تنقید کی۔

کیا ہے پورا معاملہ؟

ویڈیو میں ڈیرن نے دعویٰ کیا تھا کہ ہندو مذہب کے مقدس مقام کاشی کے نام پر قائم اس کیفے میں بیف پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ علاقہ زیادہ تر مسلم آبادی پر مشتمل ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کیفے میں مہاتما گاندھی کے مجسمے کے ساتھ محمد علی جناح کا چاندی کا مجسمہ بھی نصب کیا گیا ہے۔ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ یہ تبصرے اس انداز میں کیے گئے جن سے مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان نفرت اور دشمنی پیدا ہوسکتی تھی۔ فورٹ کوچی کے ایک رہائشی کی شکایت کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کیا۔گاندھی اور جناح سے متعلق یہ تنصیب دراصل معروف فنکار ریاض کومو کا کئی سال پرانا فن پارہ ہے۔ اس فن پارے میں گجرات سے تعلق رکھنے والی دو اہم شخصیات کی زندگی، غیر ملکی حکمرانی کے خلاف ان کی جدوجہد اور بعد میں ہونے والی تقسیم کے واقعات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ڈیرن کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیلنے کے بعد اس فن پارے نے ایک بار پھر لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے۔

کیرالہ کے وزیر اعلیٰ نے ویڈیو کی مذمت کی

کیرالہ کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستھیسن نے بھی اس ویڈیو کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست میں فرقہ وارانہ نفرت کی کوئی جگہ نہیں ہے اور غلط معلومات پھیلا کر مختلف برادریوں کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں ستھیسن نے کہا، ’’کیرالہ متحد ہے۔ یہاں فرقہ وارانہ نفرت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ریاست سے باہر کے ایک وی لاگر کی حالیہ انسٹاگرام ویڈیو، جس میں فورٹ کوچی کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے، ہماری ریاست کی منفی تصویر پیش کرنے اور مختلف برادریوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، ناقابل قبول ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور قانون اپنا کام کرے گا۔ وزیر اعلیٰ نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے حکومت کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یو ڈی ایف حکومت بغیر کسی خوف یا جانبداری کے انصاف کو یقینی بنائے گی۔انہوں نے کہا، ’’نفرت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہم کسی کو بھی اپنی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘

سوشل میڈیا پرچھڑی  نئی بحث 

اس تنازع نے سوشل میڈیا پر ایک وسیع بحث چھیڑ دی ہے۔ کئی صارفین نے ویڈیو میں کیے گئے دعوؤں کی صداقت اور کیرالہ میں فرقہ وارانہ تعلقات پر اس کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔پولیس کی کارروائی کا بنیادی نکتہ یہ الزام ہے کہ ویڈیو اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے ردعمل سے عوامی امن و امان متاثر ہوسکتا ہے اور مذہبی برادریوں کے درمیان دشمنی کو فروغ مل سکتا ہے۔اس واقعے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر مواد پیش کرنے والوں کی ذمہ داریوں کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے کہ وہ اپنے دعوؤں اور تبصروں میں احتیاط برتیں تاکہ ان سے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا نہ ہو۔ پولیس کے مطابق معاملے کی تفتیش قانون کے مطابق آگے بڑھائی جائے گی۔

بھار ت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

PM Modi in Banaskantha: ہمارے کسان ترقی یافتہ ہندوستان کی مضبوط بنیاد اور ملک کی ترقی کے سب سے بڑے ستون ہیں: پی ایم مودی

وزیر اعظم نے گجرات کے بناس کانٹھا میں ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد اور افتتاح…

2 hours ago

Mokama MLA Anant Singh: دلار چند یادو قتل معاملے میں اننت سنگھ کی مشکلات میں اضافہ، سپریم کورٹ نے سرینڈر کرنے کا دیا حکم

بہار کے موکاما سے رکن اسمبلی اننت سنگھ کو سپریم کورٹ سے جھٹکا، عدالت نے…

3 hours ago

West Bengal Textbook Updates: اب بنگال کے بچے ’پانی‘ نہیں ’جل‘ پڑھیں گے، نصاب میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز

تاریخ کی کتابوں میں اتر پردیش کے سنولی اور ہریانہ کے راکھی گڑھی میں ہونے…

4 hours ago