جب سڑکوں پر سائرن بجتے تھے اور گاڑیوں کے لمبے قافلے گزرتے تھے، تو ہم اکثر سوچتے تھے کہ کاش یہ ’وی آئی پی کلچر‘ کچھ کم ہو جائے۔ اب آپ کی یہ سوچ حقیقت بنتی نظر آ رہی ہے، اور اس کی شروعات خود وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے گھر یعنی اپنے ہی قافلے سے کی ہے۔ پی ایم مودی نے ایک ایسی پہل کی ہے جو نہ صرف سرکاری خزانے پر بوجھ کم کرے گی بلکہ ہمارے ’بڑے لوگوں‘ کے رہن سہن اور سفر کے انداز کو بھی بدل کر رکھ دے گی۔
قافلہ ہوا چھوٹا، پیغام ہوا بڑا
وزیر اعظم نے ہدایت دی ہے کہ ان کے سرکاری قافلے میں شامل گاڑیوں کی تعداد کو سیدھا 50 فیصد کم کر دیا جائے۔ اکثر سکیورٹی کے نام پر درجنوں گاڑیاں ساتھ چلتی تھیں، لیکن اب پی ایم کا کہنا ہے کہ سکیورٹی بھی برقرار رہے گی اور سادگی بھی۔ خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے الیکٹرک گاڑیوں (EV) کو فروغ دینے کی بات تو کی ہے، لیکن ایک بڑی شرط کے ساتھ — ’نئی گاڑیاں بالکل نہیں خریدی جائیں گی‘۔
پی ایم مودی کا ماننا ہے کہ جو وسائل ہمارے پاس پہلے سے موجود ہیں، انہی کو بہتر انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے۔ غیر ضروری خرچ کرکے نئی چمچماتی گاڑیاں خریدنے کا دور اب پرانا ہو چکا ہے۔
جج سائیکل پر عدالت پہنچے، گورنر نے بس کا سفر کیا
وزیر اعظم نے صرف نصیحت ہی نہیں دی بلکہ کچھ ایسی مثالیں بھی پیش کیں جو معاشرے کے لیے تحریک بن سکتی ہیں۔ انہوں نے ایک ایسے جج کا ذکر کیا جو اپنی شان و شوکت چھوڑ کر سائیکل سے عدالت پہنچتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، انہوں نے گجرات کے گورنر آچاریہ دیوورت کی بھی تعریف کی، جو حال ہی میں اپنی سرکاری گاڑی چھوڑ کر عام لوگوں کی طرح بس میں سفر کرتے نظر آئے۔ پی ایم کا کہنا ہے کہ جب آئینی عہدوں پر بیٹھے لوگ ایسی سادگی اپناتے ہیں، تو پورے ملک کو ایک مثبت پیغام ملتا ہے۔
ہر طرف دکھنے لگا اثر
وزیر اعظم کی اس ’سادہ زندگی‘ والی اپیل کا اثر اب ریاستوں میں بھی نظر آنے لگا ہے۔ بی جے پی حکومت والی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے اپنے قافلوں کو چھوٹا کرنا شروع کر دیا ہے۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا، راجستھان کے وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما اور مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو نے بھی اپنے قافلوں میں کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کیا سکیورٹی میں کمی آئے گی؟
قافلہ چھوٹا ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وزیر اعظم کی سکیورٹی میں کوئی کمی کی جائے گی۔ ان کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالنے والی ایجنسی SPG نے واضح کیا ہے کہ ’بلیو بک‘ کے اصولوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یعنی سکیورٹی پہلے کی طرح مضبوط رہے گی، بس گاڑیوں کا غیر ضروری دکھاوا اب سڑکوں پر کم نظر آئے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
آر سی بی کے ساتھ شاندار سیزن گزارنے کے بعد گریس ہیرس یوپی واریئرز میں…
شیفالی ورما نے محض 26 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کرکے بھارتی خواتین ون…
دسمبر 2030 تک نیا ٹرمینل تیار کرنے کا منصوبہ، سالانہ 2 کروڑ مسافروں کو سنبھالنے…
وکلا کے ایک گروپ نے جسٹس اجے بھنوٹ کی عدالت میں ہنگامہ آرائی کی اور…
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبا کا احتجاج 17ویں روز بھی جاری رہا۔ کیمپس کے قرب…
انڈمان و نکوبار جزائر کی انتظامیہ نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ مرکز کے زیر…