قومی

SIR Voter List Revision: ووٹر لسٹ میں ’صفائی‘ یا ووٹ کے حق پر بحران؟ جانیے کیا ہے ایس آئی آر تنازع اور کیوں اٹھ رہے ہیں سوالات

لیکن سوال اس وقت اٹھتا ہے جب اس پوری کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں ایسے افراد کے نام بھی جانچ کے دائرے میں آ جائیں جو خود کو قانونی ووٹر بتاتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کرائے جا رہے اسپیشل انٹینسیو ریویژن یعنی ایس آئی آر کو لے کر فی الحال یہی بحث تیز ہے۔

ایس آئی آر کا مقصد کیا ہے؟

ایس آئی آر کی شروعات بہار سے ہوئی تھی اور بعد میں اسے دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں تک بڑھایا گیا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ووٹر لسٹ کو زیادہ درست بنانا ہے۔تاہم زمینی سطح پر اس عمل کو لے کر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ گھر گھر جا کر تصدیق، پرانے ووٹر ریکارڈ سے نام کا ملان، دستاویزات کا مطالبہ اور بعض معاملات میں ’لاجیکل ڈسکریپینسی‘ جیسی کیٹیگریز نے کئی ووٹروں کے لیے اس عمل کو مشکل بنا دیا ہے۔ اسی دوران ایس آئی آر کے تحت مختلف ریاستوں کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے 13 کروڑ سے زیادہ نام ہٹائے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ تاہم یہ مان لینا درست نہیں ہوگا کہ یہ تمام نام حتمی طور پر ہمیشہ کے لیے ہٹا دیے گئے ہیں، کیونکہ کئی معاملات میں دعوے اور اعتراضات داخل کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے باوجود اتنی بڑی تعداد اس عمل کے پیمانے کو ضرور ظاہر کرتی ہے۔

دہلی میں نوٹس سے بڑھی تشویش

دہلی کا معاملہ اس بحث کو مزید نمایاں کر رہا ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق دارالحکومت میں تقریباً 31.63 لاکھ ووٹروں کو ایس آئی آر کے تحت نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ان نوٹس میں مختلف قسم کی خامیوں کا ذکر ہے، جن میں پرانے ریکارڈ سے نام کا میل نہ کھانا اور ’لاجیکل ڈسکریپینسی‘ بھی شامل ہے۔ دہلی میں نوٹس حاصل کرنے والوں میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سرکاری افسران اور الیکشن کمشنر بھی شامل ہیں۔ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو کا نام بھی ایسے ووٹروں کی فہرست میں سامنے آیا تھا، تاہم بعد میں متعلقہ افسر نے ان کے ریکارڈ کی تصدیق کر دی۔ انتخابی حکام کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ نوٹس ملنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ووٹر کا نام کاٹ دیا گیا ہے۔ متعلقہ شخص کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ تاہم عام ووٹر کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ نوٹس ملنے کے بعد اسے اس بات کی فکر لاحق ہو جاتی ہے کہ اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ووٹ دینے کا اہل کیوں ہے۔

پرانے ریکارڈ سے ملان کتنا آسان ہے؟

ایس آئی آر میں پرانے ووٹر ریکارڈ کا استعمال ایک اہم حصہ ہے، لیکن عملی سطح پر اس میں کئی مشکلات بھی ہیں۔مثال کے طور پر آج کسی شخص کی عمر 30 یا 40 سال ہے تو ضروری نہیں کہ پرانی نظرثانی کے وقت اس کا نام ووٹر لسٹ میں درج رہا ہو۔ اسی طرح کرائے کے مکان میں رہنے والے افراد، ملازمت کی وجہ سے شہر تبدیل کرنے والے خاندان، مہاجر مزدور اور پہلی بار ووٹ دینے والے نوجوان پرانے ریکارڈ سے اپنا تعلق آسانی سے ثابت نہیں کر پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ دستاویزات اور پرانے ریکارڈ کی میپنگ کو لے کر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کسی ریکارڈ میں نام کے ہجے مختلف ہونا یا تاریخ پیدائش میں معمولی فرق بھی کئی مرتبہ پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔

مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں میں بھی تنازع

ایس آئی آر کو لے کر مغربی بنگال میں بھی بڑے پیمانے پر ناموں کی جانچ اور انہیں ہٹانے کا عمل ہوا۔ وہاں کچھ ووٹروں کو مشتبہ زمروں میں رکھا گیا اور بعد میں دعووں، اعتراضات اور عدالتی کارروائی کے ذریعے کئی نام دوبارہ بحال بھی کیے گئے۔ ایس آئی آر سے متعلق معاملات میں سپریم کورٹ کی مداخلت بھی رہی ہے۔ 2026 میں عدالت نے ’لاجیکل ڈسکریپینسی‘ والے لاکھوں ووٹروں سے متعلق معاملات کی سماعت کے لیے عدالتی افسران اور بعد میں ریٹائرڈ ہائی کورٹ ججوں کی سربراہی میں ٹریبونل کا انتظام کیا۔ الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ بڑی تعداد میں اپیلیں ابھی زیر التوا ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنا یا ہٹانا محض کمپیوٹر پر ایک کلک کا معاملہ نہیں ہے۔ اس کے پیچھے کسی شہری کے آئینی حق کا معاملہ بھی جڑا ہوا ہے۔

الیکشن کمیشن کے اندر بھی اٹھے سوالات

ایس آئی آر سے متعلق اہم پیش رفت الیکشن کمیشن کے اندر سے سامنے آئی ہے۔ ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ایک تحقیق کے مطابق الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ تحریری اعتراضات درج کیے۔ ان اعتراضات میں نئے ووٹروں کی رجسٹریشن، نام شامل کرنے اور ہٹانے، فارم 6 میں تبدیلی، ووٹر ڈیٹا کو مرکزی سطح پر رکھنے اور مغربی بنگال میں بحال کیے گئے ناموں کے خلاف اپیل جیسے معاملات شامل تھے۔رپورٹ کے مطابق دونوں کمشنروں نے بعض فیصلوں پر یہ سوال بھی اٹھایا کہ یہ ان کی معلومات یا منظوری کے بغیر لیے گئے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ موقف سامنے آیا ہے کہ کمیشن کے اندر اختلاف رائے اور غور و خوض کسی بھی ادارہ جاتی عمل کا حصہ ہو سکتے ہیں اور حتمی فیصلے مقررہ طریقہ کار کے مطابق لیے جاتے ہیں۔ اس لیے ان اعتراضات سے متعلق سامنے آنے والے دعووں اور کمیشن کے سرکاری موقف کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔

ڈیجیٹل نظام پر بھی سوالات

ایس آئی آر کا عمل بڑی حد تک ڈیجیٹل نظام پر منحصر ہے۔ اسی حوالے سے بھی کمیشن کے اندر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں الیکشن کمشنروں نے ووٹر ڈیٹا اور انتخابی سافٹ ویئر کو مرکزی سطح پر رکھنے کے حوالے سے تشویش ظاہر کی تھی۔ گوا سے متعلق ایک رپورٹ میں 97 ایسے ووٹروں کا معاملہ سامنے آیا جنہیں مقامی سطح پر سماعت کے بعد اہل قرار دیا گیا تھا، لیکن حتمی لسٹ میں ان کے نام شامل نہیں ہوئے۔ ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر نے اس معاملے میں کمیشن کو کئی مرتبہ خط بھی لکھا تھا۔ ایسے معاملات یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ حتمی فیصلے میں مقامی سطح کے انتخابی افسران اور مرکزی ڈیجیٹل نظام کے درمیان ذمہ داری کی واضح حد کیا ہے۔

اصلاح ضروری، لیکن عمل قابل اعتماد بھی ہو

ووٹر لسٹ کو درست اور اپ ڈیٹ رکھنے کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ فرضی، فوت شدہ یا ڈپلیکیٹ اندراجات کو ہٹانا انتخابات کی ساکھ کے لیے ضروری ہے۔ لیکن اتنا ہی ضروری یہ بھی ہے کہ کسی حقیقی ووٹر کا نام صرف اس لیے متاثر نہ ہو کیونکہ اس کے دستاویزات پرانے ہیں، وہ کئی مرتبہ شہر تبدیل کر چکا ہے یا کسی پرانے ریکارڈ میں اس کا نام بالکل اسی طرح درج نہیں ہے۔ ایک عملی راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہر ممکنہ اخراج کی وجہ واضح طور پر بتائی جائے۔ ’لاجیکل ڈسکریپینسی‘ جیسی کیٹیگریز کی تعریف عام زبان میں دستیاب ہو اور نام کے ہجے یا عمر میں معمولی غلطی کو درست کرنے کا آسان طریقہ فراہم کیا جائے۔

اس کے ساتھ ہی ایسے علاقوں میں جہاں بڑی تعداد میں مہاجر یا کرائے دار افراد رہتے ہیں، خصوصی کیمپ لگائے جائیں تاکہ لوگوں کو دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں اور وہ آسانی سے اپنی دستاویزات اور ریکارڈ کی تصدیق کرا سکیں۔ آخرکار ایس آئی آر کا مقصد ووٹر لسٹ کو بہتر بنانا ہے۔ اس عمل کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جائے گی کہ کتنے نام ہٹائے گئے، بلکہ اس بات سے بھی کہ کتنے اہل ووٹروں کے نام محفوظ رہے اور جن کے ناموں پر سوال اٹھایا گیا، انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا حقیقی موقع ملا یا نہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Vande Mataram: ’وندے ماترم‘ گیت نے ہندو مسلم برادری کے درمیان بڑا فرق پیدا کیا، چنڈی گڑھ میں منعقدہ سیمینار میں مقررین کا اظہار خیال

سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…

19 minutes ago

INDIA Bloc Meeting: انڈیا بلاک کے لیڈر پھر ہوں گے ایک پلیٹ فارم پر! 30 ستمبر کو میٹنگ، CEC گیانیش کمار کے خلاف حکمتِ عملی پر ہوگی بحث

SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…

52 minutes ago

Milk Price Hike: مہنگائی کی زوردار مار! ٹونڈ ملک سے دہی تک سب کچھ مہنگا، جانیے تازہ ریٹ

جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…

2 hours ago

SIR Controversy: ایس آئی آر پر این ڈی اے میں پھوٹ کے آثار! بی جے پی کے 3 بڑے اتحادی الیکشن کمیشن کے سامنے، مانگی وضاحت

چراغ پاسوان کی ایل جے پی (رام ولاس)، اپیندر کشواہا کی آر ایل ایم اور…

2 hours ago