قومی

INDIA Bloc Meeting: انڈیا بلاک کے لیڈر پھر ہوں گے ایک پلیٹ فارم پر! 30 ستمبر کو میٹنگ، CEC گیانیش کمار کے خلاف حکمتِ عملی پر ہوگی بحث

نئی دہلی: ملک میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کردار کو لے کر سیاسی سرگرمیاں ایک بار پھر تیز ہوگئی ہیں۔ اپوزیشن کے INDIA بلاک کی جماعتیں اس معاملے پر مشترکہ حکمت عملی بنانے کے لیے 30 ستمبر کو نئی دہلی میں میٹنگ کر سکتی ہیں۔ اجلاس میں ایس آئی آر کے علاوہ الیکشن کمیشن سے متعلق دیگر معاملات پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔ یہ مجوزہ میٹنگ ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایس آئی آر کے کچھ پہلوؤں کو لے کر الیکشن کمیشن کے اندر مبینہ اختلافات کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے کمیشن پر حملے تیز کر دیے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں رابطے میں

ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی مختلف جماعتیں اس معاملے پر ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں اور مشترکہ طور پر جواب دینے کی حکمت عملی پر بات چیت کر رہی ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ)، سی پی آئی اور سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے اور ایس آئی آر پر فوری روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس نے بھی گیانیش کمار کے خلاف اپنا حملہ تیز کیا ہے، جبکہ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو بھی اس معاملے پر سوال اٹھا چکے ہیں۔

ٹی ایم سی اور سی پی آئی (ایم) بھی ایک ساتھ

مغربی بنگال میں سیاسی طور پر ایک دوسرے کی حریف سمجھی جانے والی ترنمول کانگریس (TMC) اور سی پی آئی (ایم) بھی الیکشن کمیشن کے معاملے پر ایک ساتھ نظر آ رہی ہیں۔ سی پی آئی (ایم ایل) کے لیڈر دیپانکر بھٹاچاریہ نے کہا کہ ان کی جماعت بھی چاہتی ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں ایک ساتھ آئیں۔ انہوں نے کہا کہ INDIA بلاک کی میٹنگ اگست میں ہی ہونی تھی، جو نہیں ہو سکی، اس لیے 30 ستمبر کو ہونے والی میٹنگ اہم ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ INDIA بلاک سے باہر موجود اپوزیشن جماعتوں، مختلف علاقائی پارٹیوں اور زمینی سطح پر جدوجہد کرنے والی تنظیموں کو بھی ساتھ لے کر ایک بڑی تحریک کھڑی کرنے کی ضرورت ہے۔

29 ستمبر کو کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ

اس معاملے پر اپنی حکمت عملی طے کرنے کے لیے کانگریس ورکنگ کمیٹی (CWC) کی میٹنگ بھی 29 ستمبر کو ہونے والی ہے۔ اس طرح 29 اور 30 ستمبر کو اپوزیشن کی سرگرمیاں الیکشن کمیشن اور SIR کے معاملے پر مرکوز رہنے کا امکان ہے۔ سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری ایم اے بیبی نے INDIA بلاک اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کو اس معاملے پر میٹنگ کے لیے خط لکھا۔ اس کے بعد انہوں نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے بھی بات کی، جنہوں نے موجودہ حالات میں مشترکہ طور پر کام کرنے کی ضرورت سے اتفاق کیا۔

گیانیش کمار کے خلاف نئے Removal Motion کی تیاری

رپورٹ کے مطابق اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ایک نئے Removal Motion پر بھی کام کر رہی ہیں۔ قانونی ماہرین سے جانچ کے بعد اسے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے ایسی تیسری کوشش ہوگی۔ اپوزیشن کی یہ نئی صف بندی ’انڈین ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے SIR سے متعلق بعض فیصلوں اور احکامات پر متعدد مرتبہ اعتراضات ظاہر کیے تھے۔

الیکشن کمیشن کا کیا کہنا ہے؟

اس معاملے پر الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ مختلف آرا اور تبصرے ادارہ جاتی گفتگو کا معمول کا حصہ ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اس کے احکامات کو مکمل قانونی منظوری حاصل ہے اور تمام فیصلے قانونی طریقۂ کار کے مطابق کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل 23 سیاسی جماعتوں اور ایک آزاد رکن پارلیمنٹ نے SIR کے عمل اور انتخابات سے متعلق دیگر معاملات پر چیف جسٹس آف انڈیا سے رجوع کیا تھا۔ اس پیش رفت کو بھی اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اس معاملے پر وسیع تر تال میل کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سمک بھٹاچاریہ کا ممتا بنرجی پر حملہ

دوسری جانب مغربی بنگال بی جے پی کے صدر سمک بھٹاچاریہ نے سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری ایم اے بیبی کے ساتھ ممتا بنرجی کی ٹیلی فونک گفتگو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ممتا بنرجی پر سیاسی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج کسی سے بھی رابطہ کر سکتی ہیں۔ سمک بھٹاچاریہ نے دعویٰ کیا کہ اخلاقیات اور قانون کے بغیر کوئی سیاسی جماعت قائم نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے ممتا بنرجی کے سیاسی مستقبل کے بارے میں بھی منفی تبصرہ کیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Vande Mataram: ’وندے ماترم‘ گیت نے ہندو مسلم برادری کے درمیان بڑا فرق پیدا کیا، چنڈی گڑھ میں منعقدہ سیمینار میں مقررین کا اظہار خیال

سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…

3 minutes ago

SIR Voter List Revision: ووٹر لسٹ میں ’صفائی‘ یا ووٹ کے حق پر بحران؟ جانیے کیا ہے ایس آئی آر تنازع اور کیوں اٹھ رہے ہیں سوالات

بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا آغاز پولنگ بوتھ سے نہیں بلکہ ووٹر…

1 hour ago

Milk Price Hike: مہنگائی کی زوردار مار! ٹونڈ ملک سے دہی تک سب کچھ مہنگا، جانیے تازہ ریٹ

جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…

2 hours ago

SIR Controversy: ایس آئی آر پر این ڈی اے میں پھوٹ کے آثار! بی جے پی کے 3 بڑے اتحادی الیکشن کمیشن کے سامنے، مانگی وضاحت

چراغ پاسوان کی ایل جے پی (رام ولاس)، اپیندر کشواہا کی آر ایل ایم اور…

2 hours ago