قومی

Sikkim Tunnel Tragedy: سکم سرنگ حادثے میں ملبے سے ایک اور لاش برآمد، ہلاکتوں کی تعداد ہوئی گیارہ، ریسکیو ٹیمیں باقی پھنسے کارکنوں تک پہنچنے کی کوشش میں مصروف

سکم کے نامچی ضلع میں سرنگ کے منہدم ہونے کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 11 ہوگئی ہے۔ ریسکیو ٹیمیں اب بھی سرنگ کے اندر پھنسے دیگر کارکنوں تک پہنچنے کی کوشش کررہی ہیں۔ این ایچ پی سی کے تیستا اسٹیج-6 ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کی زیرتعمیر سرنگ کا ایک حصہ 20 جولائی کو منہدم ہوگیا تھا۔ آج جائے حادثہ سے ایک اور لاش برآمد کی گئی۔ سکم کے وزیراعلیٰ پریم سنگھ تمانگ نے اس سے قبل متاثرین کے لیے مالی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ حادثے کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر تعمیراتی کمپنی کی جانب سے کسی بھی قسم کی غفلت ثابت ہوئی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ تمانگ نے جائے حادثہ کا دورہ کیا

جائے حادثہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پریم سنگھ تمانگ نے کہا کہ حادثے کے فوراً بعد ریاستی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعدد ریسکیو ایجنسیوں کو زیرتعمیر سرنگ کے اندر امدادی کارروائیوں کے لیے متحرک کیا۔ انہوں نے کہا ’’یہ واقعہ کل تقریباً دوپہر ڈیڑھ بجے پیش آیا، جو موقع پر موجود کارکنوں کے لنچ بریک کا وقت تھا۔ وہاں تقریباً 27 افراد موجود تھے۔ دو افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، جبکہ 25 کارکن اندر پھنس گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریاستی انتظامیہ نے پولیس سے لے کر ایس ڈی آر ایف اور این ڈی آر ایف تک تمام متعلقہ اداروں کو متحرک کرکے جائے حادثہ پر بھیجا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا ’’ہم نے اندر پھنسے تمام 25 افراد کو کامیابی کے ساتھ نکال لیا ہے۔ فی الحال صورتِ حال کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی اور مسئلہ باقی نہ ہو اور آئندہ کے اقدامات کا تعین کیا جا سکے۔‘‘

غفلت ثابت ہوئی تو کمپنی کے خلاف کارروائی ہوگی

وزیراعلیٰ نے کہا کہ تحقیقات کے بعد اگر کمپنی کی جانب سے کسی غلطی یا غفلت کا پتا چلتا ہے تو مناسب کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو 4 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے کی مالی امداد فراہم کرے گی۔ این ایچ پی سی کے مطابق حادثہ 20 جولائی کو سامردونگ میں زیرِ تعمیر ہیڈ ریس ٹنل (ایچ آر ٹی) کے اندر پیش آیا۔ چٹانی ساخت کے اندر موجود مشتبہ میتھین گیس کے اچانک اخراج کے بعد دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں سرنگ میں گھنا دھواں اور زہریلی گیسیں بھر گئیں۔ این ایچ پی سی نے بتایا کہ حادثے کے فوراً بعد ہنگامی ردعمل کے پروٹوکول فعال کر دیے گئے۔ ریسکیو آپریشن میں ضلعی انتظامیہ، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف)، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف)، مقامی انتظامیہ اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف مائنز سیفٹی (ڈی جی ایم ایس) کی خصوصی ریسکیو ٹیم نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ این ایچ پی سی کے سینئر افسران بھی امدادی کارروائیوں کی نگرانی کے لیے جائے حادثہ پر پہنچے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

1 hour ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

2 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

2 hours ago