نئی دہلی: ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کو لے کر جاری تنازع کے درمیان اب قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے اندر سے بھی الیکشن کمیشن سے وضاحت کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ بی جے پی کی تین اتحادی جماعتوں—مرکزی وزیر چراغ پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس)، اپیندر کشواہا کی راشٹریہ لوک مورچہ (RLM) اور چندرا بابو نائیڈو کی تیلگو دیشم پارٹی (TDP) – نے کمیشن سے کہا ہے کہ وہ انتخابی عمل اور SIR سے متعلق عوام کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کو دور کرے۔
چراغ پاسوان نے الیکشن کمیشن سے موقف واضح کرنے کو کہا
چراغ پاسوان نے پٹنہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور حکومت کی جانب سے اس کا دفاع کیے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم اگر عوام کے درمیان کمیشن کے کام کاج کو لے کر سوال اٹھ رہے ہیں تو خود الیکشن کمیشن، خصوصاً چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا انتخابی نظام پر اعتماد کمزور ہونا صحت مند جمہوریت کے لیے اچھا اشارہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق کمیشن کو سامنے آکر لوگوں کے ذہن میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کو دور کرنا چاہیے۔
اپیندر کشواہا نے بھی مانگی وضاحت
راشٹریہ لوک مورچہ کے صدر اپیندر کشواہا نے بھی SIR سے متعلق اٹھنے والے سوالات پر الیکشن کمیشن سے وضاحت کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ SIR کے حوالے سے جاری تنازع کے باعث عوام میں الجھن پیدا ہو رہی ہے، اس لیے کمیشن کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔
ٹی ڈی پی نے شفافیت پر دیا زور
چراغ پاسوان اور اپیندر کشواہا کے بعد آندھرا پردیش کی تیلگو دیشم پارٹی بھی اس معاملے پر سامنے آئی۔ ٹی ڈی پی کے پارلیمانی پارٹی کے لیڈر لاؤ سری کرشنا دیورایالو نے کہا کہ آندھرا پردیش میں SIR کا عمل اچھی طرح مکمل ہوا، لیکن الیکشن کمیشن کو اس پورے معاملے پر وضاحت دینی چاہیے تاکہ انتخابی عمل میں مزید شفافیت آئے۔
تنازع کی اصل وجہ کیا ہے؟
یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب ’انڈین ایکسپریس‘ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات سے متعلق تفصیلات سامنے آئیں۔ رپورٹ کے مطابق کمیشن کے دو انتخابی کمشنروں – سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی – نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ بعض اقدامات اور فیصلوں پر باضابطہ اعتراضات درج کیے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ان اعتراضات میں نئے ووٹروں کے اندراج، ووٹر فہرست سے نام حذف کرنے اور بحال کرنے کے طریقہ کار، فارم 6 میں تبدیلی اور انتخابی فہرست کے ڈیٹا تک رسائی جیسے معاملات شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں کمشنروں نے بعض اقدامات کو اپنے علم یا منظوری کے بغیر کیے جانے پر اعتراض کیا تھا۔ تاہم الیکشن کمیشن نے بعد میں ان الزامات کے جواب میں کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران کیے گئے تمام فیصلے مکمل کمیشن کی متفقہ منظوری سے کیے گئے اور اختلافی آراء ادارہ جاتی غور و فکر کا معمول کا حصہ ہیں۔ SIR کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں بھی الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف سوالات اٹھا رہی ہیں، جبکہ کمیشن اپنے فیصلوں کو انتخابی فہرستوں کی نظرثانی اور انتخابی اصلاحات کے عمل کا حصہ قرار دے رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہا کہ…
کوہلی ورلڈ کپ کی تاریخ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شامل رہے ہیں۔ انہوں…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سکھ مذہب کے تیسرے گرو، شری گرو امرداس جی…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بنگال نشاۃ ثانیہ کے عظیم ستون اور معروف سماجی…
وراٹ کوہلی کو نمبر 3 سے ہٹانا اگرچہ ایک بڑا فیصلہ ہوگا۔ وراٹ کوہلی نے…
آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ شری کلکی دھام کی تعمیر کے لیے انہوں نے…