قومی

Shivpal Singh Yadav: یوپی اسمبلی میں بجٹ پر ہنگامہ، شیوپال سنگھ یادو نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’کیا بجٹ آپ اپنے گھر سے لے کر آئے ہیں؟ یہ عوام کا پیسہ ہے

نئی دہلی :اتر پردیش اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے نویں دن جمعرات کو ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید نوک جھونک دیکھنے کو ملی۔ بحث کے دوران الزامات اور جوابی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما شیوپال سنگھ یادو نے کسانوں، کھاد کی قلت اور آبپاشی کے مسائل کو لے کر ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایوان میں بحث کے دوران اتر پردیش کے وزیر زراعت سوریا پرتاپ شاہی نے ڈی اے پی کھاد کی کمی سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے موجودہ حکومت کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے سماجوادی پارٹی کے دورِ حکومت کے مقابلے میں تقریباً 30 لاکھ ٹن زیادہ ڈی اے پی کسانوں میں تقسیم کی ہے۔ وزیر کے مطابق کھاد کی تقسیم میں جہاں بھی بے ضابطگی پائی گئی وہاں کارروائی کی گئی اور ایک کمپنی کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی۔

وزیر زراعت کے اس بیان پر شیوپال سنگھ یادو شدید برہم ہوگئے اور انہوں نے سخت اعتراض درج کراتے ہوئے کہا کہ حکومت بجٹ بڑھانے کا کریڈٹ خود کو دے رہی ہے، جب کہ بجٹ عوام کے ٹیکس کے پیسے سے بنتا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’کیا بجٹ آپ اپنے گھر سے لے کر آئے ہیں؟ یہ عوام کا پیسہ ہے، جس میں ٹیکس اور جی ایس ٹی شامل ہے، حکومت صرف اپنی تعریف کرتی جا رہی ہے۔‘‘ شیوپال یادو نے بحث کے دوران کسانوں کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ زمینی سطح پر کسان آج بھی کھاد اور پانی کی کمی سے پریشان ہیں۔ انہوں نے آبپاشی کے معاملے پر ریاست کے وزیرِ جل شکتی سواتنتر دیو سنگھ سے بھی سوالات کیے اور کہا کہ نہروں میں بروقت پانی نہ پہنچنے سے کسانوں کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے خود نہروں میں پانی چھوڑنے کے لیے متعلقہ حکام کو فون کیا تھا، لیکن فوری کارروائی نہیں ہوئی۔ بعد میں افسران سے براہِ راست رابطہ کرنے پر مسئلہ حل ہوا۔ شیوپال یادو نے وزراء سے مطالبہ کیا کہ سرکاری افسران پر سختی کی جائے تاکہ کسانوں کو بنیادی سہولیات بروقت فراہم ہو سکیں۔ یہ بحث دراصل جل شکتی محکمہ کی گرانٹ میں کٹوتی سے متعلق پیش کی گئی تجویز پر ہو رہی تھی، جس کے دوران اپوزیشن نے حکومت کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھائے۔ اجلاس کے دوران ماحول خاصا گرم رہا اور ایوان میں سیاسی بیان بازی عروج پر دکھائی دی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Dharavi Redevelopment Project: دھاراوی کے لوگوں کے لیے بڑی شروعات، 10,432 نئے مکانات کی تعمیر شروع، اڈانی گروپ نے کیا بھومی پوجن

اڈانی گروپ نے ممبئی کے ماٹونگا میں دھاراوی بازآبادکاری منصوبے کے تحت 10,432 بازآبادکاری مکانات…

5 hours ago

INDIA Alliance Big Rally Plan: ووٹ چوری کے معاملے پر انڈیا اتحاد کی بڑی تیاری، دسمبر میں رام لیلا میدان سے طاقت دکھانے کا منصوبہ

دسمبر کے پہلے ہفتے میں دہلی میں بڑی ریلی منعقد کرنے کی تیاری، ملک بھر…

5 hours ago

INDIA Alliance Massive Protest Against Vote Chori: ووٹ چوری کا معاملہ، سڑک سے سپریم کورٹ تک عوامی سیلاب، کب کیا ہوا؟ جانیے مکمل ٹائم لائن

ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کے خلاف انڈیا اتحاد کا دہلی میں زبردست احتجاج،…

6 hours ago