قومی

Shiv Sena Election Symbol Controversy: شیوسینا کے انتخابی نشان پرسپریم کورٹ میں ہوگی سماعت، ادھوٹھاکرے نے دیا کارپوریشن الیکشن کا حوالہ

سپریم کورٹ نے شیوسینا (یوبی ٹی) لیڈرادھوٹھاکرے کی عرضی پرسماعت اگست تک ملتوی کردی ہے۔ اب کیس کی سماعت اگست میں ہوگی۔ یہ عرضی شیوسینا کے ’دھنش-کمان‘ کے انتخابی نشان کے دعوے سے متعلق داخل کی گئی تھی۔ ادھوگروپ نے بلدیاتی انتخابات کو ذہن میں رکھتے ہوئے فوری تصفیہ کی بات کی تھی۔ تاہم شندے گروپ نے فوری سماعت کی مخالفت کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ نے پیرکے روزاس کیس کی اگلی سماعت اگست کے مہینے میں طے کی ہے۔ یہ عرضی ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا کے گروپ کو’دھنش-کمان‘ انتخابی نشان دینے کے خلاف دائرکی گئی ہے۔ ادھوگروپ کا مطالبہ ہے کہ انہیں کمان تیرکا نشان استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ جسٹس سوریا کانت اورجسٹس جائے مالا باغچی کی بینچ نے کہا کہ یہ مسئلہ کافی وقت سے زیرالتوا ہے اورغیریقینی صورتحال کوجاری نہیں رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ بینچ نے ادھوگروپ کی طرف سے پیش سینئروکیل کپل سبل سے کہا، “ہم مرکزی معاملے کے حتمی تصفیے کے لیے اگست کی تاریخ طے کریں گے۔”

کپل سبل نے جلد حل کرنے کی کہی بات

کپل سبل نے عدالت کوبتایا کہ وہ ریاست میں بلدیاتی انتخابات کے پیش نظرمعاملے کا جلدازجلد حل چاہتے ہیں۔ شندے کیمپ کی طرف سے پیش ہونے والے سینئروکیل نیرج کشن کول نے کہا کہ عدالت پہلے ہی اس معاملے کی فوری سماعت سے انکارکرچکی ہے۔ کپل سبل نے کہا کہ 2023 میں اسمبلی میں اکثریت کی بنیاد پرپارٹی کا انتخابی نشان شندے گروپ کو سونپنے کا اسپیکرکا فیصلہ سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کے فیصلے کے خلاف ہے۔

ادھوگروپ نے داخل کی تھی عرضی

سات مئی کوسپریم کورٹ نے ٹھاکرے کی قیادت والے گروپ کوبلدیاتی انتخابات پرتوجہ مرکوزکرنے کوکہا تھا۔ پارٹی نے تب مہاراشٹر اسمبلی کے اسپیکرکے فیصلے کے خلاف اپنی درخواست پرفوری سماعت کی درخواست کی تھی۔ اس کے بعد عدالت عظمیٰ نے کہا کہ کیس کی سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد ہوگی۔

اسمبلی اسپیکرنے شیوسینا (یوبی ٹی) کی عرضی کوکردیا تھا مسترد

مہاراشٹر اسمبلی کے اسپیکرراہل نارویکرنے 10 جنوری 2024 کوشیو سینا (یوبی ٹی) کی درخواست کومسترد کردیا تھا، جس میں شندے سمیت حکمراں خیمہ کے 16 اراکین اسمبلی کونااہل قراردینے کی درخواست کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ میں اسمبلی اسپیکرکے ذریعہ منظور کردہ احکامات کوچیلنج کرتے ہوئے، ٹھاکرے کی قیادت والے گروپ  نے دعویٰ کیا کہ وہ واضح طورپرغیرقانونی تھے۔ انہوں نے منحرف ہونے والوں کوسزا دینے کے بجائے یہ کہہ کرنوازا کہ وہ اصل سیاسی جماعت ہیں۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا کہ اسمبلی اسپیکرنے شیوسینا کی سیاسی جماعت کی مرضی کی نمائندگی کرنے والے شیوسینا اراکین اسمبلی کی اکثریت کے ساتھ سلوک کرنے میں غلطی کی۔ نااہلی کی درخواستوں پراپنے فیصلے میں، اسمبلی اسپیکرنے دونوں حریف کیمپوں سے کسی بھی اراکین اسمبلی کونااہل قرارنہیں دیا تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

9 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

11 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

11 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

12 hours ago