نئی دہلی : جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی کے تیزی سے بڑھتے استعمال کے اثرات اب روزگار کی منڈی پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ بینک آف کوریا (BOK) کی منگل کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، چیٹ جی پی ٹی جیسے جنریٹو اے آئی چیٹ بوٹس کے آنے کے بعد اے آئی سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں میں نوجوانوں کی ملازمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔بینک آف کوریا کی رپورٹ کے مطابق جون 2022 سے جون 2026 کے درمیان 15 سے 29 سال کی عمر کے افراد کی مجموعی ملازمتوں کی تعداد میں 2 لاکھ 85 ہزار کی کمی ہوئی۔ اس میں سب سے زیادہ کمی ان شعبوں میں دیکھی گئی جو اے آئی کے اثرات کے لیے زیادہ حساس سمجھے جاتے ہیں۔یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق مجموعی طور پر ختم ہونے والی ملازمتوں میں سے 2 لاکھ 68 ہزار، یعنی تقریباً 94 فیصد، اے آئی سے متاثرہ شعبوں سے وابستہ تھیں۔ ان میں آئی ٹی سروسز، پبلشنگ، کمپیوٹر پروگرامنگ اور پروفیشنل سروسز جیسے شعبے نمایاں ہیں۔
بڑی عمر کے ملازمین کی ملازمتوں میں اضافہ
اس کے برعکس 50 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کے روزگار میں اسی عرصے کے دوران اضافہ ہوا۔ اس عمر کے گروپ میں ملازمتوں کی تعداد 2 لاکھ 30 ہزار بڑھی، جن میں سے 1 لاکھ 73 ہزار ملازمتیں اے آئی سے متاثرہ شعبوں میں ہی پیدا ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی کے دور میں تجربہ اور خصوصی مہارت رکھنے والے ملازمین کی مانگ نسبتاً مضبوط ہے۔رپورٹ میں 2022 کو مطالعے کا بنیادی سال قرار دیا گیا ہے، کیونکہ اسی سال کے آخر میں چیٹ جی پی ٹی لانچ ہوا تھا اور اس کے بعد جنریٹو اے آئی ٹیکنالوجی کا عالمی سطح پر استعمال تیزی سے بڑھا۔
آئی ٹی شعبے میں نوجوانوں کی ملازمتیں 31.4 فیصد کم
شعبہ وار اعداد و شمار کے مطابق نوجوانوں کے روزگار میں سب سے زیادہ کمی آئی ٹی سروسز کے شعبے میں ہوئی، جہاں ملازمتوں کی تعداد 31.4 فیصد گھٹ گئی۔ پبلشنگ کے شعبے، جس میں سافٹ ویئر اور ویب ڈیزائن سے متعلق پیشے بھی شامل ہیں، نوجوانوں کی ملازمتوں میں 27.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔اسی طرح کمپیوٹر پروگرامنگ میں نوجوانوں کی ملازمتیں 16.6 فیصد اور پروفیشنل سروسز میں 11.6 فیصد کم ہوئیں۔ یہ وہ شعبے ہیں جہاں اے آئی پر مبنی آٹومیشن اور مواد تیار کرنے والے ٹولز کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے بھی چیلنج
رپورٹ میں تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے بے روزگاری کے اعداد و شمار کا بھی جائزہ لیا گیا۔ 2019 سے 2022 کے دوران گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ڈگری رکھنے والے نوجوانوں کی اوسط بے روزگاری کی شرح 8.2 فیصد تھی، جبکہ ثانوی یا جونیئر کالج سطح تک تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں میں یہ شرح 8 فیصد تھی۔تاہم 2022 کے بعد دونوں گروپوں کے درمیان فرق بڑھ گیا۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 7 فیصد رہی، جبکہ کم تعلیمی قابلیت رکھنے والے نوجوانوں میں یہ 5.4 فیصد تھی۔ یوں دونوں گروپوں کے درمیان فرق بڑھ کر 1.6 فیصد پوائنٹس ہوگیا۔بینک آف کوریا نے کہا کہ ملک کی مسلسل کم ہوتی آبادی بھی نوجوانوں کے روزگار میں تبدیلی کی ایک اہم وجہ ہوسکتی ہے، تاہم اے آئی کے پھیلاؤ نے اس رجحان کو مزید تیز کیا ہے۔بی او کے کے تحقیقی شعبے کے محقق اوہ سام اِل نے کہا کہ اے آئی نوجوان ملازمین کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرسکتا ہے، لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انہی ملازمین کو اے آئی کے ذریعے تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کی ملازمتوں میں کمی کے لیے مکمل طور پر اے آئی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا، لیکن یہ ضرور نوجوانوں کے لیے روایتی کیریئر کی سیڑھی کے کمزور ہونے کے رجحان کو تیز کر رہا ہے
بھارت ایکسپریس اردو
میزبان ازبکستان نے آخری راؤنڈ میں یوکرین کو 2.5-1.5 سے شکست دے کر گولڈ میڈل…
برطانوی حکومت نے بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو 23 مارچ 1931 کو…
ایسے میں 19 سالہ کارتک نے شکایت کرنے کے بجائے خود کچھ کرنے کا فیصلہ…
راگھو چڈھا نے حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے نئے ٹیلی کام کنزیومر پروٹیکشن…
آشوتوش رنکا نے اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ پولیس نے انہیں مبینہ طور پر…
28 سے 30 ستمبر تک ہونے والی ہڑتال پانچ روزہ بینکنگ ہفتے سمیت کئی مطالبات…