شرد پواراورپرفل پٹیل کی ملاقات نے مہاراشٹرکی سیاست میں نئی بحث چھیڑدی ہے۔ اس ملاقات کے بعد نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے دونوں گروپوں کے ممکنہ انضمام اورمستقبل کی سیاسی حکمت عملی سے متعلق قیاس آرائیاں تیزہوگئی ہیں۔ این سی پی-ایس پی کے سربراہ شرد پواراورپرفل پٹیل کی ملاقات نے مہاراشٹرکی سیاست میں نئی بحثوں کوجنم دے دیا ہے۔ اس ملاقات کے دوران دونوں لیڈران کے درمیان ہونے والی بات چیت سے یہ اشارہ ضرورملتا ہے کہ کوئی سیاسی پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اب یہ پیغام کس کے لئے تھا اوراس کے پیچھے کیا حکمت عملی ہے، یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوسکتا ہے۔ شرد پواراورپرفل پٹیل گزشتہ 35 سے 40 سالوں سے مہاراشٹرکے ساتھ ساتھ قومی سیاست میں بھی سرگرم ہیں۔ دونوں لیڈران کے درمیان طویل عرصے سے سیاسی تعلقات رہے ہیں۔ اسی لئے اسپتال میں ہونے والی اس ملاقات کوصرف ایک رسمی ملاقات کے طورپردیکھنا آسان نہیں ہے اوراس کے کئی سیاسی مطلب نکالے جا رہے ہیں۔
دیوالی کے بعد ہوگی بات چیت
ملاقات کے دوران شرد پوارنے کہا کہ انہیں اگلے دن صبح 10 بجے اسپتال سے چھٹی مل جائے گی اوردیوالی کے بعد دونوں بیٹھ کربات چیت کریں گے۔ جواب میں پرفل پٹیل نے کہا کہ وہ 10 نومبرسے ممبئی میں ہوں گے اورشرد پوارجب بھی کہیں گے، دونوں ساتھ بیٹھ کربات چیت کریں گے۔ اب سوال اٹھ رہا ہے کہ آخردیوالی کے بعد ہونے والی اس ملاقات کا ایجنڈا کیا ہوگا اوردونوں رہنماؤں کے درمیان کن معاملات پربات چیت ہوسکتی ہے؟ اس پورے معاملے میں سب سے اہم موضوع دونوں این سی پی کے انضمام کا ہے۔ اجیت پوارکے انتقال سے پہلے اجیت پوارگروپ اوراین سی پی-شرد چندرپوارکے لیڈران کے درمیان انضمام سے متعلق تقریباً چارملاقاتیں ہوئی تھیں، لیکن اجیت پوارکے انتقال کے بعد یہ معاملہ سیاسی بحث میں پیچھے چلا گیا۔ اب ایک بارپھردونوں این سی پی کوایک ساتھ لانے کی کوششوں کی بات ہورہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ پرفل پٹیل بھی چاہتے ہیں کہ مہاراشٹرمیں دونوں گروپ ایک ساتھ آئیں۔
امت شاہ کے ساتھ میٹنگ میں بھی اٹھا معاملہ
ذرائع کے مطابق، مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں بھی دونوں این سی پی کے انضمام کا معاملہ نمایاں طورپراٹھا تھا۔ اس میٹنگ میں پارٹی کے 6 سینئرلیڈران شامل ہوئے تھے، لیکن سنیترا پواراورپارتھ پوارموجود نہیں تھے۔ اسی میٹنگ سے متعلق شرد پوارنے پرفل پٹیل سے معلومات حاصل کیں۔ تاہم، دونوں لیڈران کے درمیان ہونے والی مکمل بات چیت عوامی نہیں کی گئی ہے۔ دوسری جانب، اجیت پوارگروپ کے اندربھی قیادت اورفیصلوں سے متعلق ناراضگی کی خبریں ہیں۔ پارٹی کے بعض سینئرلیڈران کی ناراضگی پارتھ پوارکے طریقہ کاراورتقرریوں سے متعلق بتائی جا رہی ہے۔ الزام ہے کہ کئی فیصلوں میں سینئرلیڈران سے مشورہ نہیں کیا جا رہا ہے۔ پرفل پٹیل کی سیاسی حیثیت کو سمجھنا بھی اس پورے معاملے میں اہم ہے۔ جب این سی پی متحد تھی، تب شرد پوارکے بعد پرفل پٹیل کوپارٹی کے اہم لیڈران میں شمارکیا جاتا تھا اوران کا سیاسی اثرورسوخ کافی بڑا تھا، لیکن اجیت پوارکے انتقال کے بعد بدلے ہوئے سیاسی اورقیادتی حالات میں ان کے کردارسے متعلق بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔
شرد پوار کے فیصلے پر سب کی نظریں
وہیں، مہاراشٹرکی نائب وزیراعلیٰ سنیترا پوار کی جانب سے پارٹی کو الگ شناخت کے ساتھ آگے بڑھانے کی خواہش اورسینئر لیڈران کے درمیان دونوں گروپوں کے انضمام کے مطالبے سے متعلق الگ الگ بحثیں جاری ہیں۔ اس پورے معاملے میں حتمی فیصلہ شرد پوارکے کردار پرمنحصر ہوگا۔ وہ انضمام کے معاملے پرکیا موقف اختیارکرتے ہیں اورمستقبل کی سیاست کے لئے کون سا راستہ منتخب کرتے ہیں، اس پرسب کی نظریں رہیں گی۔
پی ایم مودی نے شرد پوار سے کی بات
اس دوران وزیراعظم نریندرمودی کا شرد پوارکوکیا گیا فون بھی سیاسی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ شرد پوارکی طبیعت خراب ہونے کے دوران وزیراعظم نے فون کرکے ان کی خیریت دریافت کی تھی۔ گفتگوکے دوران انہوں نے شرد پوارسے اپنی صحت کا خیال رکھنے کوکہا تھا۔ ساتھ ہی سپریا سولے کا ذکرکرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کی سیاست وہ اورسپریا سولے سنبھال لیں گے۔ وزیر اعظم کے اس بیان سے متعلق بھی مختلف سیاسی معنی نکالے جا رہے ہیں۔ یہ بحث بھی جاری ہے کہ کیا این سی پی-شرد چندرپوارمستقبل میں این ڈی اے کے قریب آسکتی ہے؟ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی کی جانب سے دونوں این سی پی کے ایک ساتھ آنے کی صورت میں این ڈی اے کے ساتھ جڑنے کی شرط رکھی گئی ہے۔ ایسے میں دونوں گروپوں کا انضمام اوراس کے بعد ان کی سیاسی سمت، دونوں ہی بڑے سوال بنے ہوئے ہیں۔ ایک طرف وزیراعظم کا شرد پوارسے رابطہ، دوسری طرف پرفل پٹیل کی ان سے ملاقات اور تیسری جانب این سی پی کے اندرقیادت سے متعلق جاری رسہ کشی، ان تمام واقعات نے مہاراشٹرکی سیاست میں نئے سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ اب سب کی نظریں دیوالی کے بعد شرد پواراورپرفل پٹیل کے درمیان ہونے والی ملاقات پرہیں کہ اس میں کیا بات چیت ہوگی اورکیا دونوں این سی پی کے مستقبل کو لے کر کوئی نئی پیش رفت سامنے آئے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
امت شاہ نے ہریانہ کے کرنال میں بی جے پی کی ’لوک تنتر بچاؤ، اَراجکتا…
امت شاہ نے کہا ہے کہ میں دیوبھومی کے عوام کو یقین دلانا چاہتا ہوں…
یہ فیصلہ دیوالی کے تہوار سے دو روز قبل کیا گیا ہے، جس کا مقصد…
دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے شکایت کنندہ کو اضافی دستاویزات داخل کرنے کی اجازت…
عدالت نے اسی وجہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج کوثبوت کے طورپرقبول نہیں کیا۔…
یہ ایوارڈ محکمہ خواتین کو بااختیار بنانے اور اطفال کی ترقی کی جانب سے مالی…