قومی

Avimukteshwaranand V/s Yogi Government: ’یوگی کو ثابت کریں گے غیر ہندو …‘، کاشی پہنچتے ہی اب کیا کہہ گیے اوی مکتیشور آنند؟

پریاگ راج سے شروع ہوا شنکر آچاریہ بمقابلہ حکومت کا تنازعہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ماگھ میلہ چھوڑ کر کاشی پہنچتے ہی سوامی اوی مکتیشور  آنند نے ایک بار پھر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر سخت حملہ کیا ہے۔ کاشی میں منعقد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا،“مجھ سے بھی ثبوت مانگا گیا تھا اور میں نے وہ پیش کر دیا۔ میرے ثبوت سچے تھے، اسی لیے انہیں ماننا پڑا۔ اب ہم بھی ثبوت مانگیں گے اور اب وزیر اعلیٰ یوگی کو اپنے ہندو ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔”

’میں نے ثبوت دے دیا، اب آپ دیں‘

شنکر آچاریہ نے وزیر اعلیٰ پر حملے تیز کرتے ہوئے کہا کہ ان سے شنکر آچاریہ ہونے کا ثبوت مانگا گیا تھا، 24 گھنٹے میں جواب دینے کو کہا گیا اور ماگھ میلے میں داخلے پر پابندی کی دھمکی دی گئی۔ انہوں نے جواب دے دیا اور اب تک کوئی اس کا توڑ نہیں نکال سکا، جس کا مطلب ہے کہ ان کے ثبوت درست تھے۔انہوں نے کہا کہ اب وہ یوگی سے ثبوت مانگ رہے ہیں۔ صرف تقاریر سے ہندوتوا ثابت نہیں ہوتا۔ سوال یہ ہے کہ گاؤ سیوا کے لیے کیا کیا گیا؟ ہندو ہونے کی پہلی شرط گاؤ ماتا کی حفاظت ہے۔ انہوں نے 40 دن کی مہلت دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ اپنے ہندو اور گاؤ بھکت ہونے کا ثبوت دیں۔

’گاؤ ماتا کا گوشت بیچ کر آئے گا رام راج؟‘

شنکر آچاریہ اوی مکتیشور  آنند نے حکومت پر مزید حملہ بولتے ہوئے کہا کہ کیا گاؤ ماتا کا گوشت بیچ کر ڈالر کمائے جائیں گے اور رام راج قائم کیا جائے گا؟ انہوں نے الزام لگایا کہ گائے کے گوشت کو بھینس کا گوشت بتا کر بچاؤ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر 40 دنوں میں گاؤ ماتا کو راشٹر ماتا قرار نہیں دیا گیا تو وزیر اعلیٰ کو ’چھدم ہندو‘ قرار دیا جائے گا۔

گنگا اسنان تنازع پر بیان

پریاگ راج میں گنگا اسنان کے تنازع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ معاملہ اب پیچھے رہ گیا ہے، اب اصل بحث سچے ہندو اور جعلی ہندو کی ہے۔ ان کے مطابق افسران نے کئی باتیں کہیں، مگر آگے آ کر جواب نہیں دیا۔ وہ بہت کچھ کہنا چاہتے تھے، لیکن بات کو تسلیم نہیں کیا گیا۔

پورا تنازع کیا ہے؟

دراصل، جنوری میں مونی اماوسیہ کے روز سنگم اسنان کے لیے جاتے وقت پولیس نے سوامی کی پالکی روک دی تھی۔ اس دوران احتجاج کے وقت ان کے ششیوں کے ساتھ دھکا مکی ہوئی۔ سوامی نے الزام لگایا کہ پولیس نے ان کے ششیوں کو شکھا پکڑ کر گھسیٹا، جس کے بعد وہ شیویر کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئے۔ اس واقعے کے بعد سوامی نے 11 دن تک شیویر میں داخلہ نہیں کیا۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹس میں سپریم کورٹ کے مقدمہ نمبر 3010/2020 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ سوامی کے پٹابھشیک پر فی الحال روک ہے اور فیصلہ آنے تک کوئی بھی خود کو شنکر آچاریہ نہیں کہہ سکتا۔ نوٹس میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ شیویر میں لگے بورڈ پر خود کو شنکر آچاریہ ظاہر کرنا عدالتی حکم کی توہین ہے، جس پر انتظامیہ نے سوامی سے 24 گھنٹوں میں وضاحت طلب کی تھی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

G20 Voice Of Global: عالمی سطح پر ’سوراج‘: گلوبل ساؤتھ کی آواز بن کر کیسے ابھرا بھارت؟ جی 20 سے وائس سربراہی اجلاس تک مکمل تجزیہ

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے ’تزویراتی خودمختاری‘ اور ’سوراج‘ کے تصور…

47 minutes ago

Trade in Local Currencies: ڈالر کا دباؤ ختم اور مقامی کرنسی میں تجارت، برکس سربراہی اجلاس میں بھارت کی قیادت میں بنا نیا عالمی روڈمیپ

برکس (BRICS) کی 18ویں سربراہی کانفرنس میں، بھارت نے ایران اور متحدہ عرب امارات کے…

2 hours ago

Women Rights International Law: نصف آبادی، مکمل شناخت: کیا خواتین کو باہر رکھ کر طالبان کو جائز حکومت مانا جا سکتا ہے؟

افغانستان میں طالبان کے دور حکومت میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، روزگار اور عوامی…

2 hours ago

Rajbhar’s Sharp Reaction: اکھلیش یادو کے بیان پر راج بھر کا سخت ردعمل، کہا -ہمت ہے تو مسلم وزیر اعلیٰ بنانے کا کریں اعلان

اکھلیش یادو کے یونیفارم سول کوڈ والے بیان پر سیاسی ہنگامہ مچا ہوا ہے، اوم…

2 hours ago

Trump 100 Percent Tariff: امریکی 100 فیصد ٹیرف کی دھمکی کے بیچ بھارت کا دوٹوک پیغام، توانائی پالیسی پر نہیں بدلے گا مؤقف

اب سب کی نظریں امریکی ایوانِ نمائندگان میں ہونے والی ووٹنگ پر ہیں۔ اس کے…

2 hours ago