16 سال قبل طالبہ شاہین ملک پر ہونے والے تیزاب حملے کے معاملے میں روہنی کورٹ نے اہم فیصلہ سنایا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج جگموہن سنگھ نے کیس میں شامل تینوں ملزمان کو ثبوت کی عدم دستیابی کے سبب بری کر دیا ہے۔تین افراد پر شاہین ملک پر تیزاب پھینکنے کا الزام تھا۔ واقعے کے وقت شاہین ہریانہ کے پانی پت میں واقع پنجاب ٹیکنیکل یونیورسٹی سے ایم بی اے کر رہی تھیں۔ اسی دوران ان کے اس وقت کے باس، جو پہلے سے شادی شدہ تھے، نے ان کو مبینہ طور پر پریشان کرنا شروع کیا اور یہ سلسلہ کئی ہفتوں تک جاری رہا۔
باس کی بیوی نے انجام دی حملے کی سازش
یہ بات باس کی بیوی تک پہنچی، جس نے یونیورسٹی کے ایک طالب علم کے ساتھ مل کر شاہین ملک پر تیزاب حملے کی سازش کو انجام دیا۔ حملے نے شاہین کی زندگی کو مکمل طور پر بدل دیا اور پورے ملک میں اس واقعے پر شدید غصہ دیکھنے کو ملا۔
کیس کا ہریانہ سے دہلی ٹرانسفر
واقعے کی شدت کے پیش نظر کیس کو سال 2013 میں ہر یانہ سے دہلی منتقل کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ میں اس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے 16 سال کی تاخیر پر کہا کہ عدالتی نظام کا یہ مذاق شرمناک ہے۔
عدالتی کارروائی اور امید
سماعت کے دوران متاثرہ نے بتایا کہ جب انصاف کی امید ختم ہو چکی تھی، اسی دوران ہسار فیملی کورٹ کی سی جے ایم پرمند رکور نے کیس دوبارہ کھولا، جس کے بعد سے انصاف کی امید جگی۔ اب شاہین ملک تیزاب حملے کے متاثرین کے لیے کام کر رہی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
انوشکا یادو اپنی بیٹی اُجّینی کے ساتھ ڈانڈیا کلاس میں شرکت کرنے پہنچی تھیں۔ انہوں…
کم سے کم درجۂ حرارت میں کوئی خاص تبدیلی درج نہیں کی گئی، تاہم یہ…
ہندوستانی کپتان کی توجہ فی الحال ٹیم کے لیے نئے معیار قائم کرنے پر ہے۔…
ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) نے بتایا کہ نئی دہلی میونسپل کونسل (این…
مظاہرے کے دوران پولیس پر مار پیٹ کا الزام لگانے والی کیرالہ کی قانون کی…
پونم نے جمعرات کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا، ’’کافی…