نئی دہلی میں واقع جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) سے ایک حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے۔ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر پر جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ کم از کم 10 طالبات نے پروفیسر کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تحقیقات یونیورسٹی کی انٹرنل کمپلینٹس کمیٹی (آئی سی سی) کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ شکایات تقریباً ایک ماہ قبل درج کرائی گئی تھیں۔ سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ابتدا میں ایک طالبہ نے شکایت کی تھی، جس کے بعد یونیورسٹی کے کچھ سینئر طالبات بھی سامنے آئے اور اسی پروفیسر کے خلاف مبینہ طور پر اسی نوعیت کے الزامات عائد کیے۔ شکایت کنندگان نے پروفیسر پر نامناسب رویہ اختیار کرنے کا الزام لگایا ہے۔
گھر بلانے اور نامناسب رویے کے الزامات
شکایات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پروفیسر نے کچھ طالبات کو کیمپس میں واقع اپنی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقاتوں میں بلایا۔ وہاں مبینہ طور پر انہوں نے طالبات کے ساتھ نامناسب جنسی رویہ اختیار کرنے کی کوشش کی۔ کچھ طالبات نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ پروفیسر کلاس کے دوران مبینہ طور پر نامناسب اور فحش تبصرے کیا کرتے تھے۔ تاہم ان الزامات کی ابھی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ معاملہ فی الحال یونیورسٹی کی انٹرنل کمپلینٹس کمیٹی کے پاس ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ اس لیے تحقیقات مکمل ہونے تک شکایات میں لگائے گئے الزامات کو محض الزامات کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
کئی طلبہ کے سامنے آنے کے بعد معاملہ بڑھا
بتایا جا رہا ہے کہ ابتدائی شکایت کے بعد جب دیگر طالبات کو معاملے کی اطلاع ملی تو کئی سینئر طالبات نے بھی اپنی شکایات سامنے رکھیں۔ اس کے بعد معاملے کا دائرہ بڑھ گیا اور یونیورسٹی کی آئی سی سی نے شکایات کی تحقیقات شروع کر دیں۔ واضح رہے کہ یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی سے متعلق شکایات کی تحقیقات اور ان کے ازالے کے لیے آئی سی سی مقررہ طریقہ کار کے تحت کام کرتی ہے۔
جے این یو انتظامیہ کے ردعمل کا انتظار
فی الحال جے این یو انتظامیہ اور وائس چانسلر کے دفتر کی جانب سے اس معاملے پر کوئی آفیشیل ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا ہے کہ آئی سی سی کی تحقیقات کس مرحلے میں پہنچی ہیں اور اب تک کمیٹی کی جانب سے کیا کارروائی کی گئی ہے۔ معاملے میں آئندہ کی صورتحال آئی سی سی کی تحقیقات اور اس کے نتائج پر منحصر ہوگی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا آفیشیل ردعمل سامنے آنے کے بعد معاملے کی مزید تفصیلات واضح ہو سکتی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…