سپریم کورٹ نے اس شخص کو بری کر دیا ہے جس پر ایک طالب علم کو ڈانٹنے کی وجہ سے اسے خودکشی پر اکسانے کا الزام تھا۔ ایک طالب علم کی شکایت پر ایک اسکول اور ہاسٹل کے انچارج نے متوفی کو ڈانٹا تھا۔ اس کے بعد اس طالب علم نے خودکشی کر لی تھی اور اس کے لواحقین نے انچارج پر خودکشی پر اکسانے کا مقدمہ کر دیا تھا۔
جسٹس اے امان اللہ اور پرشانت کمار مشرا کی بنچ نے کہا کہ کوئی بھی عام آدمی ایسا سوچ بھی نہیں سکتاکہ محض ڈانٹ پڑنے پر کوئی لڑکا یا شخص اتنا بڑا قدم اٹھا لے گا۔ سپریم کورٹ نے مدراس ہائی کورٹ کے اس حکم کو مسترد کر دیا، جس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 306 کے تحت خود کشی کے لیے اکسانے کے جرم میں ملزم انچارج کو بری کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
عدالت نے کہا ’’معاملے پر مکمل غور کرنے کے بعد، ہم اسے مداخلت کے لیے موزوں سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ اپیل کنندہ کے ذریعہ بجا طور پر پیش کیا گیا ہے کوئی بھی عام شخص یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ ایک ڈانٹ، وہ بھی ایک دوسری طالب علم کی شکایت کی بنیاد پر، اس طرح کے سانحے کا نتیجہ ہوگی کہ ڈانٹ کھانے والا طالب علم اپنی جان لے لے۔‘‘
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اس طرح کی ڈانٹ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ کسی دوسرے طالب علم کی جانب سے متوفی کے خلاف کی گئی شکایت کا نوٹس لیا جائے اور تدارک کے اقدامات کیے جائیں۔ بنچ نے کہا’’اس عدالت کی رائے میں اس طرح کے تسلیم شدہ حقائق پر مبنی موقف کے تحت ملزم پر خودکشی پر اکسانے کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھوٹان کے پوناخا میں مو چھو ندی میں اچانک سیلاب سے شمسی آب پاشی نظام…
دور دراز علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ اپنی فریاد لے کر پہنچے، لیفٹیننٹ گورنر…
وزیراعظم گجرات میں 4,030 نئے بچوں کے لیے سازگار آنگن واڑی مراکز کا سنگِ بنیاد…
ڈاکٹر شمس اقبال نے کونسل کے تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ…
تین روزہ بین الاقوامی پریاگ راج فلم فیسٹیول 2026 کا شاندار آغاز جمعہ کو ہوٹل…
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا نے تمام مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے 18 دنوں…