قومی

Communal Disharmony: محض ’’مسلمان ہیڈماسٹر‘‘ کو ہٹانے کے لیے ملوا دیا اسکول کے بچوں کے پانی میں زہر، کرناٹک میں سامنے آیا مذہبی منافرت کا خوفناک واقعہ

کرناٹک کے ضلع بیلگاوی کے ایک سرکاری اسکول میں مذہبی منافرت کا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں بچوں کے پینے کے پانی میں محض اس لیے زہر ملانے کی سازش رچی گئی، تاکہ اسکول کے مسلم پرنسپل کو اس کے عہدے سے برطرف کروایا جاسکے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ 14 جولائی کو ضلع کے ہولی کٹی گاؤں میں واقع گورنمنٹ لوور پرائمری اسکول میں پیش آیا، جہاں گزشتہ 13 برسوں سے ہیڈ ماسٹر سلیمان گورینائک خدمات انجام دے رہے ہیں۔

اس واقعے میں اسکول کے 12 طلبا پانی پینے کے بعد بیمار ہو گئے تھے۔ اگرچہ علامات جان لیوا نہیں تھیں، لیکن اس سے اسکول میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ بچوں کو فوری طبی امداد دی گئی اور اب وہ صحت یاب ہو چکے ہیں۔ تاہم پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ کرشنا مدار نامی ایک شخص نے اسکول کے ایک بچے کو زہریلا مادہ بوتل میں بھر کر اسکول کے پانی کے ٹینک میں ڈالنے کو کہا گیا۔ مزید تفتیش میں معلوم ہوا کہ کرشنا مدار کو ساغر پاٹل اور نگان گوڈا پاٹل نامی دو افراد نے بلیک میل کرتے ہوئے اس کام پر مجبور کیا تھا۔

واضح رہے کہ ساغر پاٹل، جو سری رام سینا نامی تنظیم کا تعلق سطح کا صدر ہے، اس واقعے کا مبینہ ماسٹر مائنڈ بتایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس نے اعتراف کیا کہ اسے اس بات پر اعتراض تھا کہ ایک مسلم شخص مقامی سرکاری اسکول میں ہیڈ ماسٹر کے عہدے پر فائز ہے۔ دریں اثنا کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ فرقہ وارانہ نفرت اور مذہبی شدت پسندی سے متاثر ایک سنگین مجرمانہ اقدام ہے، جو بچوں کی جانوں کے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے خطرہ ہے اور مذہبی بنیادوں پر کی جانے والی ایسی سازشیں ناقابل برداشت ہیں۔ پولیس نے تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

9 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

10 hours ago