غازی آبادکے صاحب آباد علاقے میں بچوں کی سلامتی سے متعلق سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جن مقامات پر موبائل ٹاور نصب ہوتے ہیں، وہاں آس پاس اسکول یا دیگر حساس اداروں کا قیام قواعد و ضوابط کے خلاف مانا جاتا ہے۔ اس کے باوجود اسکول انتظامیہ نے بچوں کی سلامتی کو نظرانداز کرتے ہوئے اسی عمارت میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، جو بچوں کے مستقبل اور صحت دونوں کے ساتھ سنگین کھلواڑ ہے۔
افسران فوری طور پر معاملے کی جانچ کریں اور بچوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں
والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ افسران فوری طور پر معاملے کی جانچ کریں اور بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری کارروائی عمل میں لائیں۔اسکول میں پڑھنے والے بچوں کے والدین نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی عمر بہت کم ہے اور ریڈی ایشن کا اثر ان کی صحت پر سنگین نتائج مرتب کر سکتا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے اسکولوں کی فوری جانچ کرائی جائے اور اگر قواعد کی خلاف ورزی پائی جائے تو اسکول کو بند کیا جائے۔
ایسے اسکولوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے
مقامی شہریوں اور سماجی کارکنوں نے بھی حکومت اور انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ بچوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ایسے اسکولوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیم کے نام پر بچوں کی جان و سلامتی کے ساتھ کسی بھی قسم کا سمجھوتہ ہرگز برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس معاملے میں اب تک محکمۂ تعلیم یا میونسپل انتظامیہ کی جانب سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ معاملہ سنگین لاپروائی اور قوانین کی خلاف ورزی کی ایک واضح مثال تصور کیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
گورنر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ڈاکٹر سدھا یادو کی وزیر اعظم نریندر مودی سے…
اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے…
گجرات کے دو روزہ دورے کے دوران بناس کانٹھا ضلع میں 407.56 کروڑ روپے کی…
مدھیہ پردیش کے ڈنڈوری میں بنیادی سہولیات کی کمی کی ایک افسوسناک تصویر سامنے آئی…
نئے ضابطوں میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ کسی امیدوارکے خلاف محض ایف…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آندھرا پردیش، پڈوچیری، اڈیشہ اور چھتیس گڑھ کے وزرائے…