نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کو ان عرضیوں پر 27 جولائی کو سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی، جن میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف جنتر منتر اور ملک کے دیگر مقامات پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مبینہ طور پر ضرورت سے زیادہ پولیس کارروائی کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ معاملہ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ کے سامنے سینئر وکیل گوپال شنکرنارائنن نے پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مظاہرین کے خلاف مبینہ تشدد سے متعلق دو عرضیاں دائر کی گئی ہیں۔
’طلبہ کے خلاف طاقت کا استعمال بے روک ٹوک جاری‘
شنکرنارائنن نے عدالت کو بتایا کہ عرضیاں طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ پولیس تشدد کے واقعات سے متعلق ہیں اور اس معاملے میں کئی ریاستیں فریق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عرضیوں کا ڈائری نمبر جاری ہونے کا انتظار تھا، اسی لیے انہیں پہلے عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا جاسکا۔ معاملے کی فوری نوعیت پر زور دیتے ہوئے سینئر وکیل نے کہا کہ طلبہ کے خلاف پولیس کی مبینہ زیادتی کی اطلاعات مسلسل سامنے آ رہی ہیں اور فوری عدالتی مداخلت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا ’’پولیس بچوں کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ یہ مسلسل بے روک ٹوک جاری ہے۔ کچھ ضابطے ضروری ہیں۔ عدالت ہمارے اور پولیس کے درمیان کھڑی ہے۔‘‘
20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران کشیدگی
عرضیوں پر دیے گئے دلائل کا نوٹس لیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت ان عرضیوں پر غور کرے گی اور انہیں پیر کو سماعت کے لیے فہرست میں شامل کرنے کی ہدایت دی۔ چیف جسٹس نے کہا ’’اسے فہرست میں شامل کیا جائے، ہم اس کی سماعت کریں گے۔‘‘ 20 جولائی کو کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی جانب سے کئی ہفتوں تک جاری احتجاج اور جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کے بعد پارلیمنٹ مارچ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس مارچ میں ہزاروں طلبہ نے شرکت کی تھی۔ مظاہرین مبینہ امتحانی پرچوں کے لیک اور امتحانی نظام میں وسیع تر اصلاحات کے مطالبے کے ساتھ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
دہلی پولیس نے کارروائی کا کیا دفاع
مظاہرین نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرتے ہوئے وسطی دہلی میں پولیس کی کئی رکاوٹوں کو عبور کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی کئی ویڈیوز میں مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کو مظاہرین کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ تاہم، دہلی پولیس نے اپنی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ طاقت کا استعمال اسی وقت کیا گیا جب بھیڑ کے کچھ حصے مبینہ طور پر پرتشدد ہو گئے اور پتھراؤ میں ملوث ہوئے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…