قومی

Congress leader Meenakshi Natarajan: راجیہ سبھا نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف میناکشی نٹراجن کی عرضی پر آج سپریم کورٹ میں سماعت

نئی دہلی :کانگریس کی سینئر لیڈرمیناکشی نٹراجن کی راجیہ سبھا انتخابات کے لیے داخل کردہ نامزدگی مسترد کیے جانے کے معاملے پر آج سپریم کورٹ میں اہم سماعت ہوگی۔ نٹراجن نے مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا امیدوار کے طور پر اپنے نامزدگی فارم کو رد کیے جانے کے خلاف عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا ہے اور اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔جمعرات کو جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس اتل ایس چندرکر پر مشتمل تعطیلاتی بنچ کے سامنے کانگریس لیڈر کی جانب سے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے فوری سماعت کی درخواست کی تھی۔ سنگھوی نے عدالت کو بتایا کہ جمعرات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ تھی اور اگر اس معاملے کی جلد سماعت نہ ہوئی تو درخواست گزار کو مؤثر قانونی راحت حاصل کرنے کے لیے چھ سال تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے سپریم کورٹ سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ تنازع کے حتمی تصفیے تک راجیہ سبھا انتخابات کے نتائج کے اعلان پر عارضی روک لگا دی جائے۔ تاہم جسٹس مشرا کی سربراہی والی بنچ نے اس مرحلے پر کوئی عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی تفصیلی سماعت جمعہ کو کی جائے گی۔دوسری جانب ریٹرننگ افسر کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل مکل روہتگی اور الیکشن کمیشن کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ڈی ایس نائیڈو نے فوری مداخلت کی درخواست کی مخالفت کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ انتخابی عمل میں غیر ضروری مداخلت مناسب نہیں ہوگی۔یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے میناکشی نٹراجن کی نامزدگی پر اعتراضات اٹھائے گئے۔ ان اعتراضات کے بعد ریٹرننگ افسر نے ان کا نامزدگی فارم مسترد کر دیا تھا۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ نٹراجن نے اپنے حلف نامے میں تلنگانہ کی ایک عدالت میں زیر سماعت مقدمے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، جو انتخابی ضابطوں کی خلاف ورزی ہے۔

یہ اعتراض حیدرآباد کی چوتھی ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ عدالت میں سابق کارپوریٹ ایگزیکٹو اے شری لتا کی جانب سے دائر ایک درخواست پر مبنی ہے۔ اس درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ میناکشی نٹراجن نے کمبھم شیوکمار ریڈی کو سیاسی تحفظ فراہم کیا، جن پر شری لتا نے چھیڑ چھاڑ، مجرمانہ دھمکی اور دیگر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔میناکشی نٹراجن نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’سیاسی سازش‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور حیدرآباد کی عدالت میں بھی وہ اس درخواست کی مخالفت کر رہی ہیں۔اس سے قبل کانگریس لیڈر نے ریٹرننگ افسر پر ’’ملا بھگت‘‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حکومت کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں۔ مدھیہ پردیش سے کانگریس کی واحد راجیہ سبھا امیدوار نٹراجن کا کہنا ہے کہ ان کی نامزدگی کو مسترد کر کے جمہوری عمل کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بعض آئینی عہدیدار اپنی غیرجانبداری کھو کر حکمران جماعت کے ترجمان کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اب سپریم کورٹ کی سماعت پر سیاسی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں، کیونکہ اس فیصلے کے راجیہ سبھا انتخابات اور آئندہ سیاسی منظرنامے پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

1 hour ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

2 hours ago