قومی

Supreme Court: چیف جسٹس کو الیکشن کمشنروں کی تقرری میں شامل کرنے پر سپریم کورٹ کے ججوں کی رائے الگ، جسٹس دتا بولے- ہم اس نتیجے سے متفق نہیں

نئی دہلی : الیکشن کمشنروں کی تقرری کے عمل میں چیف جسٹس آف انڈیا کو شامل کرنے کی درخواست پر سپریم کورٹ اپنا فیصلہ سنا رہی ہے۔ جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس ستیش چندر شرما کی بنچ یہ حکم سنا رہی ہے۔ جسٹس دتا نے کہا کہ دونوں ججوں کا نتیجہ ایک نہیں ہے۔جسٹس دتا نے معاملے کو 5 ججوں کی بنچ کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کردی۔ انہوں نے کہا کہ وہ خاص طور پر اس دلیل کا جواب دینا چاہتے ہیں جو ججوں کی تقرری کے لیے کالجیم نظام سے متعلق دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ غلط تاثر پھیلایا جاتا ہے کہ جج ہی ججوں کی تقرری کرتے ہیں، جبکہ اس عمل میں تفصیلی غور و خوض کیا جاتا ہے۔گزشتہ سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے اس معاملے کو 5 ججوں کی آئینی بنچ کے حوالے کرنے کی درخواست کی تھی۔

جسٹس دتا نے کیا کہا؟

جسٹس دتا نے کہا، ’’مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے بات کی جاتی ہے، انٹیلی جنس رپورٹ حاصل کی جاتی ہے۔ ایک یا دو تقرریوں پر تنازع کی وجہ سے پورے نظام پر سوال اٹھانا درست نہیں ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ عدالت کے سامنے یہ دلیل دی گئی کہ الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری کے لیے الیکشن کمشنروں کا غیر جانب دارانہ انتخاب ضروری ہے۔ وزیر اعظم کے ساتھ ان کی جانب سے نامزد نمائندے کے بھی انتخابی کمیٹی میں شامل ہونے سے انتخاب کا عمل حکومت کی جانب جھک سکتا ہے اور 3 رکنی کمیٹی میں اپوزیشن لیڈر کا کردار محض رسمی بن کر رہ جائے گا۔ جسٹس دتا نے کہا کہ انہیں اس دلیل میں وزن نظر آتا ہے۔

جسٹس ستیش چندر شرما نے کیا کہا؟

اس کے بعد جسٹس ستیش چندر شرما نے اپنا حکم پڑھنا شروع کیا۔ انہوں نے کہا، ’’جسٹس دتا کے تئیں مکمل احترام کے ساتھ میں کہنا چاہتا ہوں کہ میں ان کے فیصلے سے متفق نہیں ہوں۔‘‘جسٹس شرما نے کہا کہ جب سابقہ فیصلہ آیا تھا تو اس کا مقصد ایک خلا کو پُر کرنا تھا، کیونکہ الیکشن کمشنروں کے انتخاب کے حوالے سے کوئی واضح نظام موجود نہیں تھا۔ اس وقت عدالت نے وزیر اعظم، اپوزیشن لیڈر اور چیف جسٹس پر مشتمل کمیٹی کی بات کہی تھی۔انہوں نے کہا کہ اب صورتحال مختلف ہے، کیونکہ پارلیمنٹ قانون بنا چکی ہے۔ جسٹس شرما نے کہا کہ ان کا فیصلہ ہے کہ معاملہ چیف جسٹس کے سامنے رکھا جائے اور وہ 5 ججوں کی بنچ تشکیل دیں۔

’’معاملہ 3 ججوں کی بنچ کو بھیجا جائے‘‘

جسٹس دتا نے کہا کہ اگرچہ دونوں ججوں کا نتیجہ مختلف ہے، لیکن ان کا خیال ہے کہ اب اس معاملے کو 3 ججوں کی بنچ کے پاس بھیجا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ معاملہ چیف جسٹس کے سامنے رکھا جائے اور وہ 5 ججوں کی بنچ تشکیل دے دیں۔جسٹس دتا نے کہا کہ عرضی گزاروں کو خدشہ تھا کہ آئینی بنچ کو بھیجے گئے معاملات پر برسوں تک سماعت نہیں ہوتی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس معاملے کی جلد سماعت ہوگی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Gold Flake Cigarettes Get Costlier: گولڈ فلیک سگریٹ ہوئی مہنگی، جانئے 10 اور 20 سگریٹ والے پیکٹ کی نئی قیمت

سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا…

58 minutes ago

Asian Games 2026: بھارتی خواتین کبڈی ٹیم کی شاندار کارکردگی جاری، ایران کو 37-23 سے شکست

بھارت اور ایران کے درمیان مقابلے کے پہلے ہاف میں زبردست کشمکش دیکھنے کو ملی۔…

3 hours ago