نئی دہلی: دہلی کے ستیہ نکیتن بلڈنگ حادثے پر دہلی ہائی کورٹ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) اور دہلی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے واضح الفاظ میں کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داری سے نہیں بھاگ سکتی۔ ہائی کورٹ نے حادثے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے حکام کو راحت اور بچاؤ کے کام میں تیزی لانے کی ہدایت دی، تاکہ ملبے میں پھنسے لوگوں کی جان بچائی جا سکے۔ سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے کہا کہ 50 طلبہ کی جان داؤ پر لگی ہے اور کچھ طلبہ اب بھی ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ اس سے زیادہ افسوسناک کچھ نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے حکام سے سوال کیا کہ ایسے حادثات کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ اس پر سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے ہائی کورٹ کو یقین دلایا کہ لوگوں کی جان بچانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ عدالت نے حکام کو ریسکیو آپریشن مزید تیز کرنے اور ہر ممکن طریقے سے جان بچانے پر زور دیا۔
پی جی اور ہاسٹل میں رہنے والے طلبہ کی حفاظت پر تشویش
دہلی ہائی کورٹ نے پی جی اور ہاسٹل میں رہنے والے طلبہ کی حفاظت پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ کسی عمارت کے منہدم ہونے کے واقعے کے لیے صرف عمارت کا مالک ہی ذمہ دار نہیں ہوتا، بلکہ متعلقہ سرکاری محکمے بھی اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر سرکاری افسران کو قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی صحیح معلومات ہوتیں اور وہ انہیں وقت پر پورا کرتے تو ایسے حادثات کو روکا جا سکتا تھا۔ عدالت نے کہا کہ جس عمارت کے منہدم ہونے کا واقعہ پیش آیا، وہاں بڑی تعداد میں طلبہ رہتے تھے، جن میں بہت سے دہلی سے باہر کے رہنے والے ہیں۔ دہلی یونیورسٹی میں ہاسٹل کی کمی کے باعث کئی طلبہ کو مجبوراً پی جی میں رہنا پڑتا ہے۔ عدالت نے اسے انتہائی تشویشناک صورتحال قرار دیا۔
’دو منزل کی اجازت لے کر چھ منزلہ عمارت بنا دی جاتی ہے‘
ہائی کورٹ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے طلبہ کے لیے کافی ہاسٹل دستیاب نہیں ہیں اور پی جی کو لے کر بھی مناسب ضابطے اور نگرانی کا فقدان ہے۔ عدالت نے کہا کہ پی جی چلانے والوں کو تعمیراتی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ کئی مرتبہ دو منزلہ عمارت کی اجازت لے کر چھ منزل تک تعمیر کر دی جاتی ہے، جبکہ عمارت کی بنیاد وہی رہتی ہے۔ ایسی صورتحال میں حادثات کا ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔
ایک ہفتے میں پی جی اور ہاسٹل کا آڈٹ کرنے کی ہدایت
ہائی کورٹ نے ایم سی ڈی کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر دہلی میں چل رہے پی جی اور ہاسٹل کا آڈٹ کرے۔ ایم سی ڈی کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ پی جی کے لیے کوئی ضابطہ یا نظام موجود ہے یا نہیں اور ان پی جی و ہاسٹل میں کتنے طلبہ رہ رہے ہیں۔ عدالت نے دہلی یونیورسٹی سے بھی معلومات طلب کی ہیں کہ دہلی سے باہر کے کتنے طلبہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں اور ان کے لیے کتنے ہاسٹل دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ حکام سے یہ معلوم کرنے کو کہا گیا ہے کہ جن عمارتوں میں طلبہ رہ رہے تھے، انہیں ضروری منظوری حاصل تھی یا نہیں۔ اگر کسی سطح پر قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کے لیے کون ذمہ دار ہے، اس کی تفصیلات بھی پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ایم سی ڈی اور پولیس نے کارروائی کا دیا یقین
سماعت کے دوران ایم سی ڈی اور دہلی پولیس کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ریسکیو آپریشن میں ہر ممکن قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ عدالت نے اس بیان کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ بچاؤ کا کام مزید تیز کیا جائے گا۔ ہائی کورٹ نے تمام متعلقہ فریقوں سے الگ الگ جواب طلب کیا ہے اور اس معاملے میں 10 دن کے اندر حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ طلبہ کی حفاظت کی ذمہ داری صرف عمارت مالکان پر ڈال کر سرکاری افسران اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے۔ حکام کو یقینی بنانا ہوگا کہ پی جی اور ہاسٹل میں رہنے والے طلبہ کی جان و سلامتی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔
پانچ افسران پر گری گاج، معطل
اس دوران دہلی پولیس نے عمارت کے مالک ہری رام کو حراست میں لے لیا ہے۔ عمارت منہدم ہونے کے بعد وہ فرار تھا اور پولیس اس کی تلاش میں چھاپے مار رہی تھی۔ پولیس نے ہری رام کو راجستھان کے بھیواڑی سے حراست میں لیا۔ اب اسے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ وہیں اس معاملے میں سخت کارروائی کرتے ہوئے دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے پانچ افسران کو معطل کر دیا ہے۔ لاپروائی کے الزام میں ایم سی ڈی ساؤتھ زون کے ڈپٹی کمشنر راکیش کمار، ساؤتھ زون کے سپرنٹنڈنگ انجینئر رنویر سنگھ، ایگزیکٹو انجینئر للت کمار گوئل، اسسٹنٹ انجینئر سنیل چوہان اور جونیئر انجینئر آشیش کمار کو معطل کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ٹورنامنٹ کا آغاز 2 اکتوبر کو سپر سیریز سے ہوگا، جس میں کوالیفائر کی تین…
ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی حکومت نے ان کی رہائش گاہ…
موہن یادو نے لوگوں سے جنگلی حیات کے محفوظ مسکن اور قدرتی توازن کو برقرار…
ملک بھر میں اڈانی فاؤنڈیشن 19 سے زائد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں…
اسمت مچھار کی بہادری کے اعتراف میں گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے اعلان…
نودیپ سنگھ نے اپنے ہاسپیٹیلٹی کیریئر کا آغاز ہندوستان سے کیا۔ امرتسر سے لندن تک…