قومی

Rural LPG Consumers: دیہی ایل پی جی صارفین کو بڑی راحت، اب 25 دن میں دوبارہ بک کرا سکیں گے گیس سلنڈر

مرکزی پٹرولیم، قدرتی گیس اور سیاحت کے وزیر مملکت سریش گوپی نے پیر کو کہا کہ ملک میں ایل پی جی سپلائی کی صورتحال میں نمایاں بہتری اور زیر التوا ری فل بکنگ میں بڑی کمی کے بعد حکومت نے پہلے سے نافذ پابندیوں میں نرمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکہ-ایران تنازع اور آبنائے ہرمز میں سپلائی متاثر ہونے کے دوران ملک میں ایل پی جی کی دستیابی پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔ اس دوران حکومت نے شہری صارفین کو 25 دن کے وقفے پر ری فل بک کرنے کی اجازت دی تھی، جبکہ دیہی علاقوں کے صارفین کے لیے یہ مدت 45 دن مقرر کی گئی تھی۔

اب تمام صارفین کے لیے 25 دن کا وقفہ

سریش گوپی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’ایل پی جی کی سپلائی کی صورتحال میں بہتری اور ری فل بیک لاگ میں نمایاں کمی کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے یہ پابندی ہٹا دی ہے۔ اب تمام گھریلو ایل پی جی صارفین، خواہ وہ شہری علاقوں سے ہوں یا دیہی علاقوں سے، 25 دن کے وقفے پر گیس سلنڈر بک کرا سکیں گے۔‘‘ وزیر نے پٹرولیم وزارت کی جانب سے تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کو بھیجے گئے ہدایت نامے کی ایک نقل بھی شیئر کی، جس میں اس ترمیم شدہ انتظام کو فوری طور پر نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

توانائی بحران کے دوران اٹھائے گئے اقدامات کا اثر

یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب توانائی بحران کے دوران حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے مختلف اقدامات کے نتیجے میں ایل پی جی کی دستیابی میں بہتری آئی ہے۔ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باوجود حکومت گھریلو طلب کو پورا کرنے کے لیے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھی۔

جون میں تجارتی ایل پی جی پر پابندیاں بھی ہٹائی گئیں

واضح رہے کہ جون میں حکومت نے تجارتی ایل پی جی کی سپلائی پر عائد پابندیاں بھی واپس لے لی تھیں۔ اس کے تحت پٹرولیم وزارت نے تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں کو غیر گھریلو پیکڈ ایل پی جی کی سپلائی کو تنازع سے پہلے کی سطح کے مطابق معمول پر لانے کی ہدایت دی تھی۔ اس سے قبل صنعتوں اور تجارتی اداروں کو راحت فراہم کرنے کے لیے حکومت نے تجارتی ایل پی جی کی سپلائی کو بحران سے پہلے کی کھپت کی سطح کے 50 فیصد تک بحال کرنے کی اجازت بھی دی تھی، تاکہ پیداوار اور کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔

عالمی توانائی سپلائی پر بڑھا تھا دباؤ

قابل ذکر ہے کہ فروری میں امریکہ-اسرائیل اور ایران سے متعلق تنازع اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں خلل کے بعد عالمی توانائی سپلائی پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔ اس وقت حکومت نے ضروری اشیا قانون کی دفعات کا استعمال کرتے ہوئے ملک میں ایل پی جی کی گھریلو دستیابی یقینی بنانے اور ممکنہ قلت سے بچنے کے لیے مختلف کنٹرول اقدامات نافذ کیے تھے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

مینز ون ڈے ورلڈ کپ 2027: ایک ہی گروپ میں بھارت اور پاکستان، 10 اکتوبر کو ہوگا بڑا مقابلہ

ٹورنامنٹ کا آغاز 2 اکتوبر کو سپر سیریز سے ہوگا، جس میں کوالیفائر کی تین…

38 minutes ago

Adani Foundation Story: مشرقی اترپردیش میں سماجی تبدیلی کی نئی عبارت لکھ رہا ہے اڈانی فاؤنڈیشن

ملک بھر میں اڈانی فاؤنڈیشن 19 سے زائد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں…

3 hours ago

The Signature Award 2026: نودیپ سنگھ کو سپلائر ڈیولپمنٹ میں نمایاں خدمات کے لیے ’دی سگنیچر ایوارڈ 2026‘ سے نوازا گیا

نودیپ سنگھ نے اپنے ہاسپیٹیلٹی کیریئر کا آغاز ہندوستان سے کیا۔ امرتسر سے لندن تک…

6 hours ago