قومی

Sanskar Bharati’s “Kala Sankul”: سنسکار بھارتی کے زیراہتمام ’’کلا سنکول‘‘ میں ڈرامائی سمپوزیم، ڈرامہ ’’جلم امرتم‘‘ کی کامیاب پیشکش

نئی دہلی :سنسکار بھارتی کے ’’کلا سنکول‘‘ کی جانب سے گزشتہ اتوار کی شام فکر اور تخلیقی اظہار پر مبنی ایک خصوصی ڈرامائی سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر ابھی نَے ناٹیا ایسوسی ایشن کی جانب سے معروف ڈرامہ ’’جلم امرتم‘‘ کی مؤثر اسٹیج پیشکش کے ساتھ مکالماتی نشست بھی منعقد کی گئی، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔

پانی اور انسانی شعور کے تعلق کو اجاگر کرتا بامقصد ڈرامہ

ڈاکٹر مدھو پنت کے تحریر کردہ اور نشا ترویدی کی ہدایت کاری میں پیش کیے گئے اس ڈرامے نے پانی، زندگی اور انسانی احساسات کے گہرے رشتے کو نہایت حساس اور مؤثر انداز میں پیش کیا۔ ڈرامے کی تحقیق اور موسیقی کی ترتیب لوکیندر ترویدی نے انجام دی، جس نے پیشکش کو جذباتی گہرائی عطا کی۔’’جلم امرتم‘‘ کا موضوع موجودہ دور کے تناظر میں بڑھتے ہوئے آبی بحران، فطرت کے بے جا استحصال اور انسانی شعور کے باہمی تضاد کو نمایاں کرتا ہے۔ یہ ڈرامہ محض ایک کہانی نہیں بلکہ زندگی کے بنیادی عناصر کے تحفظ کا پیغام ہے، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پانی ہی زندگی ہے اور اس کا تحفظ انسان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

اپنے خطاب میں لوکیندر ترویدی نے کہا کہ یہ ڈرامہ ہمارے عہد کے سب سے اہم مسئلے یعنی پانی اور زندگی کو مرکز میں رکھتا ہے۔ ان کے مطابق ’’جلم امرتم‘‘ ناظرین کو صرف سوچنے پر مجبور نہیں کرتا بلکہ انہیں حساس بناتے ہوئے مثبت تبدیلی کا حصہ بننے کی ترغیب دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیج کے ذریعے ایسا تجربہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو ناظرین کے ذہن میں سوالات بھی پیدا کرے اور مسائل کے حل کی سمت بھی رہنمائی فراہم کرے۔سمپوزیم میں شریک فنونِ لطیفہ کے شائقین، ادیبوں اور تھیٹر فنکاروں نے ڈرامے کی پیشکش کو عصری مسائل پر فن کی مضبوط اور بامعنی ترجمانی قرار دیا۔ بعد ازاں منعقدہ مکالماتی نشست میں حاضرین نے فنکاروں سے سوالات کیے اور موضوع کی سنجیدگی سمیت پیشکش کی باریکیوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

پروگرام کے اختتام پر مرکزی دفتر کے سکریٹری اشوک تیواری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’کلا سنکول‘‘ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ فنکاروں اور فن کا ایک مقدس مرکز ہے، جہاں تخلیق عبادت کا درجہ اختیار کرتی ہے اور اظہار سماج کی فکری رہنمائی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ عصری موضوعات پر فن کے ذریعے سماجی بیداری اور مثبت تبدیلی کے فروغ کے لیے مسلسل ایسے پروگرام منعقد کرتا رہے گا۔یہ تقریب فن اور فکر کے حسین امتزاج کی ایک عمدہ مثال ثابت ہوئی، جس نے حاضرین کو نہ صرف معیاری تھیٹر تجربہ فراہم کیا بلکہ سماجی ذمہ داریوں کے تئیں بیداری کا واضح پیغام بھی دیا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Gold Flake Cigarettes Get Costlier: گولڈ فلیک سگریٹ ہوئی مہنگی، جانئے 10 اور 20 سگریٹ والے پیکٹ کی نئی قیمت

سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا…

32 minutes ago

Asian Games 2026: بھارتی خواتین کبڈی ٹیم کی شاندار کارکردگی جاری، ایران کو 37-23 سے شکست

بھارت اور ایران کے درمیان مقابلے کے پہلے ہاف میں زبردست کشمکش دیکھنے کو ملی۔…

3 hours ago