نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے پیپر لیک معاملے میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کو لے کر جنتر منتر پر شروع کیے گئے احتجاج کے درمیان شیوسینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کے راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے اس تحریک کی حمایت کرتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کا کسی اہم مسئلے پر آواز بلند کرنا جمہوریت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔سنجے راؤت نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ نوجوان نسل نے ایک اہم عوامی مسئلے پر منظم تحریک شروع کی ہے۔ ان کے مطابق حکومت اس احتجاج کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے اور عوام تک اس کی اصل تصویر پہنچنے سے روکنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔
شیوسینا یو بی ٹی کے رہنما نے الزام لگایا کہ میڈیا پر بھی اس تحریک کی کوریج محدود رکھنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جنتر منتر پر جاری احتجاج کامیاب ہوتا ہے تو حکومت کو اس کی اہمیت اور نوجوانوں کے غصے کو سمجھنا پڑے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ یہ تحریک ملک بھر کے طلبہ اور نوجوانوں تک پہنچے، اسی لیے انتظامی اور پولیس مشینری کا استعمال کیا جا رہا ہے۔سنجے راؤت نے مزید کہا کہ ہزاروں نوجوان سڑکوں پر آ کر وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر وزیر اعظم نریندر مودی دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ نہیں لیتے تو پھر شفاف اور جوابدہ حکومت کی بات کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ انہوں نے اس معاملے کی ذمہ داری مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر بھی عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو طلبہ کے خدشات اور مطالبات پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ جمہوری طریقے سے اپنی آواز بلند کریں اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے اس تحریک میں شامل ہوں۔ راؤت کے مطابق طلبہ کے مسائل کو نظر انداز کرنا ملک کے مستقبل کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔دوسری جانب سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کی قیادت میں جاری اس احتجاج کے پیش نظر قومی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ دہلی پولیس نے جنتر منتر سمیت اہم مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی ہے، جبکہ اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے، اہم ریلوے اسٹیشنوں، بین الریاستی بس اڈوں اور دہلی سے ملحقہ سرحدی داخلی راستوں پر بھی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے کے لیے نیم فوجی دستوں کی تقریباً 40 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف اضلاع کے جوائنٹ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز سمیت اعلیٰ پولیس افسران کو فیلڈ ڈیوٹی سونپی گئی ہے تاکہ احتجاج کے دوران کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔حکام کا کہنا ہے کہ عوامی نظم و ضبط برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے، جبکہ مظاہرین کو پرامن احتجاج کی اجازت دی گئی ہے۔ احتجاج اور اس سے جڑی سیاسی سرگرمیوں پر ملک بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
انہوں نے PM سوریا گھر مفت بجلی یوجنا کے ذریعے گھروں کی چھتوں پر سولر…
2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے اکھلیش یادو نے کانگریس کے مضبوط علاقے…
تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے…
پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…
گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…
دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…