قومی

Big Support to K Annamalai Political Movement: انّاملائی کی ‘سونامی’: 24 گھنٹوں میں 13 لاکھ افراد نے اسٹالن اور وجے کی سیاسی زمین ہلا دی، 2031 کا کیا منصوبہ ہے؟

تمل ناڈو کی دراوڑی سیاست کے مضبوط اور ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والے قلعے میں ایک ایسی سیاسی ہلچل پیدا ہوئی ہے جس نے برسوں سے اقتدار کے ایوانوں پر قابض جماعتوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ ریاست کے ’’سنگھم‘‘ کے نام سے مشہور سابق آئی پی ایس افسر کے. انّاملائی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو خیرباد کہہ کر جیسے ہی اپنی نئی عوامی تحریک ’’ادھو نمّا ایّکم‘‘ (یہ ہماری تحریک ہے) کا اعلان کیا، جنوبی ہند کی سیاست میں ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور پارٹی قیادت سے ملاقات کے بعد استعفیٰ دینے والے انّاملائی کے انداز سے واضح ہو گیا ہے کہ وہ اب کسی جماعت کے سائے تلے سیاست کرنے کے بجائے خود قیادت کے مرکز بننا چاہتے ہیں۔ انّاملائی کے اس فیصلے کا اثر زمینی سطح پر بھی تیزی سے محسوس کیا جا رہا ہے۔ تحریک کے آغاز کے صرف 24 گھنٹوں کے اندر 13 لاکھ سے زائد افراد نے اس کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر رجسٹریشن کروا کر اپنی حمایت کا اظہار کیا، جسے تمل ناڈو کی حالیہ سیاسی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ دیر رات جب انّاملائی چنئی ہوائی اڈے پر پہنچے تو ہزاروں حامیوں نے ان کا پُرجوش استقبال کیا۔ گونجتے نعروں اور عوامی جوش و خروش نے یہ تاثر دیا کہ ریاست میں ایک نئی سیاسی قوت ابھر رہی ہے۔ کانچی پورم کے تاریخی کاماکشی امّن مندر میں آدھی رات کو جمع ہونے والے عقیدت مندوں اور انّاملائی کی کامیابی کے لیے خصوصی مذہبی رسومات نے بھی اس تحریک کو مزید توجہ دلائی۔

’’ادھو نمّا ایّکم‘‘ کا آغاز

تمل ناڈو کی سیاست ہمیشہ سے شخصیت پر مبنی قیادت کے گرد گھومتی رہی ہے۔ کامراج، ایم جی آر، کروناندھی اور جے للیتا جیسے رہنماؤں کے بعد حالیہ برسوں میں اداکار وجے کی جماعت ٹی وی کے کو ملنے والی عوامی پذیرائی بھی اسی رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق انّاملائی نے اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی نئی تحریک کی بنیاد رکھی ہے۔

انہوں نے اس تحریک کو بھارت کے سابق صدر اور ممتاز سائنس دان ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے نظریات سے منسوب کرتے ہوئے ’’کلام اسکول آف آئیڈیالوجی‘‘ کا نام دیا ہے، جو قوم پرستی، بہترین کارکردگی اور قربانی کے اصولوں کی نمائندگی کرتا ہے۔

عوامی تحریک سے سیاسی جماعت تک

اگرچہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں انّاملائی کی قیادت میں بی جے پی کو متوقع کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی، لیکن ایک آزاد اور متحرک سیاسی چہرے کے طور پر ان کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔ ان کی نئی تحریک کو فی الحال ایک عوامی مہم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، تاہم سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ مستقبل قریب میں اسے باقاعدہ سیاسی جماعت کی شکل دی جا سکتی ہے۔

ہدف 2031 کا اسمبلی انتخاب

انّاملائی نے واضح اشارہ دیا ہے کہ ان کا منصوبہ فوری سیاسی فائدے کے لیے نہیں بلکہ ایک طویل مدتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ ان کی نظریں براہِ راست 2031 کے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات پر مرکوز ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ وہ جلد ہی ریاست بھر میں ایک بڑی پدیاترا (عوامی مارچ) کا اعلان کر سکتے ہیں تاکہ اپنی عوامی بنیاد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

اگر 24 گھنٹوں میں 13 لاکھ افراد کی شمولیت کا یہ سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا تو آنے والے برسوں میں تمل ناڈو کی سیاست میں ایک نئی صف بندی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کی روایتی سیاسی جماعتیں انّاملائی کے اس نئے سیاسی تجربے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ 2031 کا انتخابی معرکہ ان کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

58 minutes ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

2 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

3 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

3 hours ago