قومی

Samajwadi Party SP rift over Azam Khan: جیل میں بند اعظم خان کے معاملے پر سماجوادی پارٹی کے رہنما ایس ٹی حسن اور رچی ویرا کے بیچ زبانی جنگ تیز

مرادآباد میں سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ رچی ویرا اور سابق رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر ایس ٹی حسن کے درمیان تناؤ بڑھ گیا ہے۔اعظم خان کی اہلیہ  تزئیں فاطمہ کے ایک بیان کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان لفظی جنگ چھڑ گئی ہے، جس نے مرادآباد کی سیاست کو گرم کر دیا ہے۔ رچی ویرا نے ڈاکٹر حسن پر الزام لگایا کہ انہوں نے اعظم خان کے حوالے سے تزئیں فاطمہ کے بیان پر ’احسان فراموش‘ جیسے الفاظ استعمال کیے۔ دوسری جانب، ڈاکٹر حسن نے کہا کہ ان کے بیان کا غلط سیاسی مطلب نکالا جا رہا ہے۔ اس تنازع نے لوک سبھا انتخابات کے دوران پیدا ہونے والی تلخی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

دراصل چار روز قبل تزئیں فاطمہ سیتا پور جیل میں قید اپنے شوہر اعظم خان سے ملنے گئی تھیں۔ جیل سے باہر نکلنے کے بعد انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اب اللہ سے امید ہے۔‘ اس بیان کے سیاسی معنی نکالے جانے لگے اور یہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا۔ اسے اعظم خان کے خاندان کے پچھلے بیانات سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ ہردوئی جیل سے رہائی کے بعد سابق رکن اسمبلی عبداللہ اعظم نے خود کو رامپور تک محدود رکھا ہے اور کسی بھی قسم کے بیانات سے گریز کیا ہے۔ دریں اثنا، اعظم خاندان کی آزاد سماج پارٹی (کانشی رام) کے قومی صدر چندر شیکھر آزاد سے بڑھتی قربت کا بھی خوب چرچا ہے، جسے کچھ لوگ دلت-مسلم اتحاد کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

رچی ویرا نے اتوار کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اعظم خان سماجوادی پارٹی کے بانی رکن ہیں اور انہوں نے رامپور میں یونیورسٹی کے قیام سمیت کئی ترقیاتی کام کیے، جنہیں عوام یاد رکھتی ہے۔ انہوں نے تزئیں فاطمہ کے بیان پر ڈاکٹر حسن کے مبینہ ’احسان فراموش‘ والے تبصرے پر اعتراض کیا اور کہا کہ یہ بیان ذاتی ہو سکتا ہے، لیکن اس کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملائم سنگھ اور اعظم خان کے خاندانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں اور ان رشتوں پر انگلی اٹھانے کی ضرورت نہیں۔ رچی ویرا کا کہنا ہے کہ تزئین فاطمہ کا بیان ان کے دکھ اور حالات کا نتیجہ تھا، جسے غلط رنگ دیا جا رہا ہے۔

دوسری طرف، ڈاکٹر ایس ٹی حسن نے کہا کہ اعظم خان ان کے قابل احترام لیڈر ہیں، لیکن ریاستی حکومت نے ان پر جھوٹے مقدمات لاد کر جیل میں ڈال دیاہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی صدر اکھلیش یادو نے اعظم خان کے لیے بہت کچھ کیا، لیکن اسے عوامی طور پر ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔ ڈاکٹر حسن نے کہا کہ ان کا لوک سبھا ٹکٹ کٹنے کے بعد اعظم خان سے ملنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ میں نے ’احسان فراموش‘ کے بجائے ’تھینک لیس‘ کہا تھا، لیکن اسے غلط سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔

لوک سبھا انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم کے دوران اکھلیش یادو اور اعظم خان کے درمیان تناؤ سامنے آیا تھا۔ اعظم خان نے اکھلیش کو رامپور سے الیکشن لڑنے کی پیشکش کی تھی اور رچی ویرا کو مرادآباد سے امیدوار بنانے کی تجویز دی تھی۔ تاہم، اکھلیش نے اسے مسترد کر دیا اور مولانا محب اللہ ندوی کو رامپور اور ڈاکٹر حسن کو مرادآباد سے ٹکٹ دیا۔ بعد میں تناؤ بڑھنے پر ڈاکٹر حسن کا ٹکٹ کاٹ کر رچی ویرا کو رامپور سے امیدوار بنایا گیا۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Gujarat Water-Governance Model: گجرات کے آبی انتظامی ماڈل سے گلوبل ساؤتھ کو سیکھ لینے کا مشورہ، پی ایم او نے شیئر کیا مضمون

پی ایم او نے ’ایکس‘ پر لکھا، ’بھارت سے آبی حکمرانی کا ایک ایسا ماڈل…

51 seconds ago

Harmanpreet Kaur: ہرمن پریت کور نے بھارتی ویمنز ٹیم کی کپتانی چھوڑی، بطور کھلاڑی سفر جاری رکھنے کا اعلان

ہرمن پریت نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ کے ذریعے تمام…

23 minutes ago

Rahul Gandhi Waves Tricolor Climbing on Barricade: بیریکیڈ پر چڑھے راہل گاندھی، لہرایا ترنگا؛ الیکشن کمیشن کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج

انڈیا اتحاد کے اس احتجاج کے دوران اپوزیشن ارکان نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار…

46 minutes ago

Rahul Gandhi: ’ہمارے ملک کے ساتھ جو کیا گیا، وہ غداری ہے، کوئی بھی بچ نہیں پائے گا‘، آکاشوانی کے اندر سے راہل گاندھی کا بڑا بیان

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر ’انڈیا‘ بلاک کے تقریباً 300…

48 minutes ago

Protest in Delhi: راہل گاندھی کا الگ ہی انداز ہے ، اکھلیش حراست میں، الیکشن کمیشن کے دفتر پر اپوزیشن کا زبردست احتجاج

پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب بڑھ رہے اپوزیشن کے مارچ کو…

1 hour ago