نئی دہلی :پٹرولیم او رقدرتی گیس کی وزارت نے منگل کو جاری ایک سرکاری بیان میں کہا کہ ملک میں گھریلو ایل پی جی کی سپلائی پوری طرح معمول پر ہے۔ وزارت کے مطابق پیر کے روز ملک بھر میں مہاجر مزدوروں کے زیر استعمال 5 کلوگرام والے 1.1 لاکھ سے زائد ایل پی جی سلنڈر فروخت کیے گئے، جس کے بعد 23 مارچ کے بعد ان کی مجموعی فروخت بڑھ کر 14.3 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
اگر آپ شہری علاقے میں رہتے ہیں، تو آپ ہر 9 دن کے وقفے پر اپنے سلنڈر کو دوبارہ بھرنے کے اہل ہیں۔ اس کے برعکس، دیہی علاقوں کےیوزر کے لیے، یہ انتظار کا دورانیہ قدرے طویل ہے۔ دیہات میں رہنے والے یوزر 16 دن کے وقفہ کے بعد ہی ری فل بک کر سکتے ہیں۔ یہ ضابطہ گیس کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔
وزارت کے مطابق فروری میں ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے 5 کلو سلنڈروں کی یومیہ اوسط فروخت تقریباً 77 ہزار تھی، جو اب بڑھ کر تقریباً 1.1 لاکھ یومیہ ہو گئی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ چھوٹے سلنڈروں کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔وزارت نے بتایا کہ صنعت میں آن لائن ایل پی جی بکنگ کا تناسب بڑھ کر 98 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی صارفین کے رجسٹرڈ موبائل نمبر پر ملنے والے ڈیلیوری آتھنٹیکیشن کوڈ (DAC) کے ذریعے ڈلیوری بھی بڑھ کر تقریباً 92 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس سے ڈسٹری بیوٹر سطح پر بے ضابطگیوں کو روکنے میں مدد مل رہی ہے۔
مارچ 2026 سے اب تک تقریباً 4.4 لاکھ پی این جی کنکشن فعال کیے جا چکے ہیں، جب کہ 4.88 لاکھ نئے یوزر نے کنکشن کے لیے رجسٹریشن کرایا ہے۔ اس کے علاوہ 33 ہزار سے زیادہ پی این جی صارفین نے MYPNGD.IN ویب سائٹ کے ذریعے اپنے ایل پی جی کنکشن سرینڈر کر دیے ہیں، جو پائپڈ گیس کی بڑھتی مقبولیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ادھر 19 کلوگرام کے کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی فروخت بھی پیر کو 4.5 لاکھ سے تجاوز کر گئی، جس کے بعد 14 مارچ کے بعد ان کی مجموعی فروخت 69.28 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔
ایل پی جی کی بہتر فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے Indian Oil Corporation Limited، Hindustan Petroleum Corporation Limited اور Bharat Petroleum Corporation Limited کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز پر مشتمل تین رکنی کمیٹی ریاستی حکومتوں اور صنعتی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی گھبراہٹ میں خریداری نہ کریں اور صرف سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں۔ یوزر کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ایل پی جی بکنگ کریں اور غیر ضروری طور پر ڈسٹری بیوٹر کے پاس جانے سے گریز کریں۔حکومت نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات کے باوجود گھریلو ایل پی جی اور پی این جی سپلائی کو ترجیح دی جا رہی ہے، خاص طور پر اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے لیے۔ ساتھ ہی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ روکنے کے لیے سخت کارروائی جاری ہے۔ سرکاری تیل کمپنیوں نے 232 ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز پر جرمانہ عائد کیا جبکہ 56 کی ڈسٹری بیوشن معطل کر دی گئی ہے۔
وزارت کے مطابق ملک کی تمام ریفائنریز مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور خام تیل کا مناسب ذخیرہ موجود ہے۔ حکومت نے یقین دلایا ہے کہ پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…