قومی

Russian President Putin to visit India in December: روسی صدر ولادیمیر پوتن دسمبر میں کریں گے بھارت کا دورہ، کہا-’’اپنے عزیز دوست سے ملاقات کا منتظر ہوں‘‘

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اعلان کیا ہے کہ وہ دسمبر کے اوائل میں بھارت کا دورہ کریں گے، جہاں ان کی وزیراعظم نریندر مودی سے سالانہ دوطرفہ اجلاس میں ملاقات متوقع ہے۔ پوتن نے کہا کہ وہ اپنے’’عزیز دوست‘‘ اور’’قابل اعتماد شراکت دار‘‘ سے ملاقات کے لیے بے حد پرجوش ہیں۔ پوتن نے یہ بات بحیرۂ اسود کے کنارے واقع سوچی شہر میں منعقدہ بین الاقوامی والدائی مباحثی فورم میں کہی، جس میں 140 ممالک کے سیکورٹی اور جغرافیائی ماہرین نے شرکت کی، جن میں بھارت کے ماہرین بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا ’’میں دسمبر کے آغاز میں بھارت کے اپنے دورے کا منتظر ہوں۔ اپنے عزیز دوست، ہمارے بااعتماد ساتھی، وزیراعظم مودی سے ملاقات کے لیے میں بے چین ہوں۔‘‘

بھارت-روس تعلقات ’’خصوصی نوعیت‘‘ کے حامل

روسی صدر نے کہا کہ بھارت اور روس کے تعلقات ہمیشہ خصوصی نوعیت کے رہے ہیں۔ ’’ہمارے تعلقات سوویت یونین کے زمانے سے ہی خاص رہے ہیں، جب بھارتی عوام آزادی کی جدوجہد کر رہے تھے۔ بھارت نے ہمیشہ ان تاریخی تعلقات کو یاد رکھا اور ہم اس کی قدر کرتے ہیں۔‘‘ پوتن نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ 15 سالوں میں ’’خصوصی اسٹریٹجک مراعات یافتہ شراکت داری‘‘ کے قیام کو بھی ایک اہم سنگِ میل کے طور پر منایا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت اور روس کے درمیان کبھی کسی نوعیت کے بین ریاستی اختلافات نہیں رہے۔

وزیراعظم مودی کی قیادت کی تعریف

پوتن نے وزیراعظم مودی کو ’’دانشمند، عملی اور قوم پر مرکوز رہنما‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا: ’’وزیراعظم مودی ایک نہایت سمجھدار اور باشعور لیڈر ہیں، جو ہمیشہ اپنی قوم کے مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔ آج ہمارا ہدف باہمی فائدے پر مبنی مؤثر تجارتی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبے میں بھی گہرے اعتماد پر مبنی تعلقات ہیں، جس کے تحت جدید ترین اسلحہ کی مشترکہ تیاری ہو رہی ہے۔

امریکہ کو بھارت پر دباؤ نہ ڈالنے کا انتباہ

پوتن نے امریکہ کو متنبہ کیا کہ وہ بھارت پر روسی تیل کی خریداری بند کرنے کے لیے دباؤ نہ ڈالے۔ انہوں نے کہا: ’’کیا بھارت ہمارے توانائی وسائل سے دستبردار ہو جائے گا؟ اگر ایسا ہوا تو اسے 9 سے 10 ارب ڈالر تک کا نقصان ہوگا۔ لیکن بھارت ایسا نہیں کرے گا کیونکہ بھارتی عوام خود کو کسی کے سامنے جھکنے نہیں دیں گے۔‘‘ پوتن نے کہا کہ وزیراعظم مودی بھی ایسی کوئی فیصلہ سازی نہیں کریں گے جو بھارت کی خودمختاری کو متاثر کرے۔

بھارت خودمختار قوم کے طور پر وقار حاصل کرے گا

پوتن نے مزید کہا کہ امریکہ کی جانب سے ممکنہ پابندیوں یا محصولات کے باوجود بھارت کو روسی خام تیل کی درآمد سے معاشی فائدہ ہوگا، ’’اس کے ساتھ ہی وہ ایک خودمختار قوم کے طور پر عالمی وقار میں اضافہ کرے گا۔‘‘

روسی صدر کے دورے کی اہمیت

یہ دورہ ایسے وقت میں متوقع ہے جب روس-یوکرین تنازع جاری ہے اور امریکہ نے بھارتی مصنوعات پر روسی تیل خریدنے کے باعث ٹیرف عائد کیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق صدر پوتن کا دورہ نہ صرف دہلی اور ماسکو کے دیرینہ تعلقات کو مزید تقویت دے گا بلکہ ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع بھی کھولے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

5 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

6 hours ago