سماج وادی پارٹی (ایس پی) کی ترجمان اور معروف مرحوم شاعر منور رانا کی بیٹی سمیہ رانا کو وقف ترمیمی بل کی مخالفت کے سبب پہلے گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا اور اب اتر پردیش پولیس نے انھیں ایک نوٹس بھی بھیج دیا ہے، جس میں ان سے 10 لاکھ روپے کا ذاتی مچلکہ جمع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پولیس کی اس کارروائی کو حکومت کی جانب سے اختلافی آوازوں کو دبانے کی کوششوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے سمیہ رانا نے پولیس کی کارروائی کو ’’آمرانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ سمیہ رانا نے کہا ’’یہ اتر پردیش پولیس اور حکومت کی آمریت ہے۔ لیکن اگر وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ مجھے روک سکتے ہیں اور میری آواز کو دبا سکتے ہیں، تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ میں اپنی جنگ آئینی طور پر لڑوں گی۔‘‘ سمیہ نے مزید کہا ’’جب سے میں نے وقف ترمیمی بل کی مخالفت شروع کی ہے، پولیس مجھے خاموش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انھوں نے مجھے ایک نوٹس بھیجا، جسے میں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ بعد میں وہی نوٹس مجھے واٹس ایپ کے ذریعے بھیجا گیا۔ میں اس نوٹس کو عدالت میں چیلنج کروں گی۔‘‘
نوٹس میں کیا کہا گیا ہے؟
سمیہ رانا کو بھیجے گئے پولیس کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سمیہ رانا کی سرگرمیاں ’’امن کی خلاف ورزی اور عوامی انتشار‘‘ کا باعث بن سکتی ہیں اور سوال کیا گیا ہے کہ ایسی صورت حال کو روکنے اور امن عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے سمیہ کو ایک سال کے لیے 10 لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کی دو ضمانتیں کیوں نہیں پیش کرنی چاہئیں؟
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ میں وقف بل کی منظوری کے بعد سے ملک بھر کے کئی شہروں اور قصبوں میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا ہے۔ مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے ایک حصے کے طور پر اتر پردیش پولیس نے متعدد کارکنوں کو بھاری جرمانے کے نوٹس بھیجے ہیں، اور کئی کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح سمیہ رانا 4 اپریل سے اپنے گھر تک محدود ہیں اور ان کی رہائش گاہ کے باہر پولیس فورس تعینات ہے۔ پولیس کا خیال ہے کہ سمیہ رانا کی سرگرمیاں ممکنہ طور پر امن عامہ میں خلل ڈال سکتی ہیں۔
پولیس نے وقف ترمیمی بل کے خلاف احتجاج کرنے پر سینکڑوں لوگوں کو بھیجے ہیں نوٹس
سمیہ کے علاوہ سماجی کارکن عظمیٰ پروین کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ عظمیٰ سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران روشنی میں آئی تھیں۔ مزید برآں سماج وادی پارٹی کے اسٹوڈنٹ ونگ سماج وادی چھاتر سبھا کے مہیندر یادو کو بھی پولیس کی طرف سے نوٹس موصول ہوا ہے۔ قبل ازیں مظفر نگر میں 300 سے زیادہ لوگوں کو ضلع انتظامیہ نے گزشتہ جمعہ کو مقامی مسجد میں جمعۃ الوداع کی نماز کے دوران بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر وقف بل کے خلاف احتجاج کرنے پر نوٹس جاری کیا تھا۔ نوٹس میں مظاہرین کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ 16 اپریل کو سٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہوں، اپنے اعمال کی وضاحت کریں اور 2 لاکھ روپے کے بانڈ اور اتنی ہی رقم کے دو ضمانتیں جمع کرائیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
ہگلی میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کے سوال پر ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ کلیان…
تفتیش کے مطابق سیا اور چیتن اکتوبر 2025 سے مسلسل ایک دوسرے کے رابطے میں…
ٹرمپ اب بھی سمجھتے ہیں کہ تجارتی جنگ میں امریکہ کے پاس برتری ہے، لیکن…
گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…
راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…
پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…