قومی

Shambhu Girls’ Hostel Incident: پٹنہ کے شنبھو گرلز ہاسٹل معاملے پر روہنی آچاریہ نے اٹھائے سوال، کہا- بے سمت جانچ، معاملہ بھٹکانے کی کوشش

پٹنہ: بہار کی راجدھانی پٹنہ میں نیٹ کی طالبہ کی موت کے بعد ریاست کی سیاست گرم ہو گئی ہے۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو کی بیٹی روہنی آچاریہ نے منگل کے روز ایک بار پھر اس معاملے کو لے کر نتیش حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

روہنی آچاریہ نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ایکس پر لکھا کہ شنبھو گرلز ہاسٹل معاملے میں پولیس کی جانچ بے سمت ہو چکی ہے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہار کے عوام میں یہ عام تاثر بنتا جا رہا ہے کہ اگر کسی نے اس معاملے میں پولیس تفتیش سے کوئی امید باندھ رکھی ہے تو وہ خوش فہمی میں جی رہا ہے۔ ان کے مطابق اس تاثر کے قائم ہونے کی معقول وجوہات بھی موجود ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ واقعے کو تقریباً دو ہفتے گزر چکے ہیں اور دستیاب شواہد کے ساتھ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی بہت سی باتیں واضح ہو چکی ہیں، اس کے باوجود پولیس جانچ کے نام پر روز نئی گمراہ کن اور شکوک پیدا کرنے والی تھیوریاں پیش کی جا رہی ہیں۔

روہنی نے ٹھوس کارروائی نہ کرنے کا لگایا الزام

روہنی آچاریہ نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہاسٹل کے منتظمین، سہج سرجری نرسنگ ہوم، پربھات میموریل اسپتال، پربھات اسپتال کے ڈاکٹر ستیش، چترگپت نگر تھانے کی خاتون پولیس افسر اور پٹنہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے خلاف اب تک کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کلیدی ملزمان کی گرفتاری ابھی تک کیوں نہیں ہوئی اور اس معاملے پر حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کیوں خاموش ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بہار کے وزیر اعلیٰ خاموش ہیں جبکہ وزیر داخلہ محض رسمی اور گھسے پٹے بیانات دے کر ذمہ داری پوری کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

ملزمان کو بڑے دباؤ کے سبب بچانے کی کوشش

روہنی آچاریہ نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت اور پولیس تفتیش کو طول دے کر اور اس کی سمت بھٹکا کر معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کے ساتھ لیپاپوتی کرنے والے ملزمان کو کسی بڑے دباؤ کی وجہ سے بچانا چاہ رہی ہے۔

اسپتال میں علاج کے دوران طالبہ کی ہو گئی موت

قابل ذکر ہے کہ پٹنہ کے چترگپت نگر علاقے میں واقع شنبھو گرلز ہاسٹل میں جہان آباد ضلع کی ایک طالبہ، جو نیٹ میڈیکل داخلہ امتحان کی تیاری کر رہی تھی، اپنے کمرے میں بے ہوش حالت میں پائی گئی تھی۔ اسے فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا، جہاں 11 جنوری کو علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔ متاثرہ طالبہ کے اہل خانہ نے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

3 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

3 hours ago